توہینِ مذہب کے الزام میں قید مسیحی جوڑے کو لاہور ہائی کورٹ نے بری کر دیا
👁️ 142 بار دیکھا گیا
توہینِ مذہب کے الزام میں قید مسیحی جوڑے کو لاہور ہائی کورٹ نے بری کر دیا
لاہور (ڈیلی اردو/بی بی سی) پیغمبرِ اسلام کی توہین کے الزام میں سات سال سے جیل میں قید مسیحی جوڑے شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینوئل کے وکیل کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے اُنھیں بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سنہ 2014 میں اس جوڑے کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس وقت ان کے خلاف چلائے گئے مقدمے میں یہ الزام ثابت ہوا تھا کہ جس موبائل نمبر سے مقامی مسجد کے امام کو پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز میسیجز بھیجے گئے تھے وہ نمبر ان کے نام پر رجسٹر تھا۔
تاہم اُن کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا ہے کہ عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کو ’ناقص‘ قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے مطابق استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ مذکورہ سِم کارڈ کا اس جوڑے سے کوئی تعلق تھا۔
اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ اُنھیں ایک ہفتے میں رہا کر دیا جائے گا۔
پاکستانی قوانین کے مطابق اس فیصلے کے خلاف ملک کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
ان کے وکیل سیف الملوک نے توہینِ رسالت کے مقدے میں سزا پانے والی خاتون آسیہ بی بی کے مقدمے کی بھی پیروی کی تھی اور سزا کے خلاف اپیل میں فیصلہ آسیہ بی بی کے حق میں آیا تھا۔
پاکستان میں توہینِ رسالت کی سزا موت ہے لیکن آج تک اس سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ تاہم ماضی میں بہت سے لوگوں پر یہ الزام لگنے کے بعد مشتعل ہجوموں نے ان کا قتل کیا ہے۔
شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینوئل کون ہیں؟
یہ غریب مسیحی خاندان پاکستان کے شہر گوجرہ سے تعلق رکھتا ہے۔ شگفتہ ایک کرسچن سکول میں نگراں کی حیثیت سے کام کرتی تھیں جبکہ ان کے شوہر شفقت معزور ہیں۔ اس جوڑے کے چار بچے ہیں
شگفتہ کے بھائی جوزف نے گذشتہ برس بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بہن اور بہنوئی بے قصور ہیں اور انھیں یہ بھی نہیں پتا کہ آیا ان دونوں کے پاس اتنی تعلیم ہے بھی کہ وہ موبائل پر اس طرح کے میسج لکھ سکیں۔
جوزف کا کہنا تھا کہ ان کے بچے ‘ہر وقت روتے ہیں اور اپنے والدین کو یاد کر رہے ہیں، وہ ان سے دوبارہ ملنا چاہتے ہیں۔‘
اس وقت جوزف کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے انصاف ملے گا اور آسیہ بی بی کے خلاف مقدمے کے خلاف فیصلے سے انھیں مزید حوصلہ ملا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف رہا ہے کہ پاکستان میں توہینِ رسالت کے الزامات اکثر یا تو اپنی ’ذاتی دشمنیوں کا انتقام‘ لینے کے لیے لگائے جاتے ہیں یا پھر ’اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے‘۔
پاکستان میں توہین رسالت کے مقدمات میں سزا اکثر اعلیٰ عدالتوں میں اپیل پر ختم کردی جاتی ہے۔ سنہ 2019 میں ایک دہائی تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والی آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے بری کیا تھا اور وہ پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوگئی تھیں۔ عدالت کے اس فیصلے پر ملک میں متعدد مذہبی جماعتوں کی طرف سے پر تشدد مظاہرے بھی ہوئے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان: مستونگ میں مسافر وین سے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکار اغوا، تین مسافر اور ڈرائیور رہا
17/October/2026 👁️ 40 بار دیکھا گیا
قلعہ عبداللہ میں مسلح افراد نے پنکئی پولیس چوکی کی عمارت گرا دی
17/October/2026 👁️ 28 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے قریب فائرنگ، 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک
17/October/2026 👁️ 30 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر راکٹ حملہ، ایک ہی علاقے میں دو واقعات رپورٹ
17/October/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
ایران سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازع کے سیاسی حل میں تعاون کے لیے تیار
17/October/2026 👁️ 54 بار دیکھا گیا
سعودی عرب : دہشت گردی کے مقدمات میں 5 شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد
17/October/2026 👁️ 49 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26378 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15615 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11910 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9259 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7517 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5463 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C