جج ویڈیو کیس: نواز شریف کو ہائیکورٹ ہی شواہد کا جائزہ لیکر ریلیف دے سکتی ہے، چیف جسٹس
👁️ 139 بار دیکھا گیا
جج ویڈیو کیس: نواز شریف کو ہائیکورٹ ہی شواہد کا جائزہ لیکر ریلیف دے سکتی ہے، چیف جسٹس
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ نیوز ایجنسی) جج ارشد ملک ویڈیو کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ کوئی کمیشن احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں ختم کر سکتا جب کہ شواہد کا جائزہ لیکر ہائی کورٹ ہی نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے۔
سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک ویڈیو کیس کی سماعت ہوئی جس میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر چکی ہے، الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت قید اور لاکھ جرمانہ ہو سکتا ہے، ایف آئی آر کے بعد ملزم طارق محمود کو گرفتار کیا گیا ہے، میاں طارق سے لینڈ کروزر برآمد ہوئی ہے، میاں طارق نے لینڈ کروزر ان سے وصول کی جن کو جج کی ویڈیو فراہم کی تھی جب کہ میاں طارق کے پاس جج ارشد ملک کی کافی ویڈیوز موجود ہیں، تحقیقات جاری ہیں ایف آئی اے ملزمان تک پہنچ رہی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ویڈیو سے جج کے موقف کا ایک حصہ درست ثابت ہوگیا، ویڈیو میں ایسا کیا ہے ہم نہیں جانتے، ایک ویڈیو کی تصدیق کروائی گئی ہے، جج نے ایسی حرکت کی تھی تب ہی وہ بلیک میل ہوا تاہم بطور جج ارشد ملک کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، ایک ویڈیو وہ بھی ہے جو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ الگ الگ کی گئی تھی جب کہ پریس کانفرنس میں آڈیو اور ویڈیو کو جوڑ کر دکھایا گیا، آڈیو ویڈیو مکس کرنے کا مطب ہے اصل مواد نہیں دکھایا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پریس کانفرنس والی اصل ویڈیو کو ریکور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ یہاں ایک آپشن آپ نے ایف آئی اے اور دوسرا نیب قانون کا دیا ہے، تیسرا آپشن تعزیرات پاکستان اور چوتھا پیمرا قانون کا دیا ہے، پانچواں آپشن حکومتی کمیشن اور چھٹا جوڈیشل کمیشن کا ہے جب کہ آخری آپشن یہ ہے کہ عدالت خود فیصلہ کرے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی کمیشن یا پیمرا احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں ختم کر سکتا، شواہد کا جائزہ لیکر ہائی کورٹ ہی نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے، جوڈیشل کمیشن صرف رائے دے سکتا ہے فیصلہ نہیں، کیا سپریم کورٹ کی مداخلت کا فائدہ ہو گا یا صرف خبریں بنیں گی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کیا جج کا سزا دینے کے بعد مجرم کے گھر جانا درست ہے، کیا مجرم کے رشتے داروں اور دوستوں سے گھر اور حرم شریف میں ملنا درست ہے، فکر نہ کریں جج کے کنڈکٹ پر خود فیصلہ کریں گے، کسی کے کہنے پر ایکشن نہیں لیں گے، وزیر اعظم نے بھی کہا عدلیہ از خود نوٹس لے، کچھ کرنا ہوا تو دیکھ اور سوچ سمجھ کر کریں گے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، 2 بچے زخمی
01/September/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
شام: مختلف مقامات پر حملے ، سکیورٹی فورسز کے 10 اہلکار زخمی
01/September/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز : آئل ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ، جانی نقصان نہیں ہوا
01/September/2026 👁️ 85 بار دیکھا گیا
پنجاب اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا
31/August/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام پر اتفاق
31/August/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
عراق: جنگی باقیات پھٹنے سے 2 افراد ہلاک، متعدد زخمی
31/August/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26263 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15508 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11791 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9088 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7375 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5055 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C