08/August/2025

جرمنی میں نیشنل سکیورٹی کونسل کا قیام

👁️ 312 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جرمنی میں نیشنل سکیورٹی کونسل کا قیام

جرمنی میں نیشنل سکیورٹی کونسل کا قیام

برلن (ڈیلی اردو/ ڈی پی اے) جرمنی ایک نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے تاکہ قومی سکیورٹی پالیسی کو بہتر طور پر مربوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، وزارتوں کے مابین مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ 27 اگست کو کابینہ اجلاس میں اس نئے ادارے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی جائے گی۔

 

یہ کونسل حکومت کو نہ صرف داخلی و خارجی خطرات کے حوالے سے باخبر فیصلے کرنے میں مدد دے گی بلکہ درمیانی اور طویل مدتی سکیورٹی خطرات کی پیش بینی کے لیے حکمت عملی بھی مرتب کرے گی۔

 

امریکی و برطانوی ماڈل کی طرز پر ڈھانچہ

 

نیشنل سکیورٹی کونسل کا قیام چانسلر فریڈرش میرس کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت، جس میں قدامت پسند بلاک اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں، کے مشترکہ ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اس کا ڈھانچہ امریکا اور برطانیہ کے نیشنل سکیورٹی ماڈلز سے متاثر ہو کر تشکیل دیا گیا ہے، اور اس کی توجہ صرف دفاعی نہیں بلکہ داخلی، معاشی، ڈیجیٹل اور تزویراتی امور پر بھی مرکوز ہو گی۔

 

کونسل کی ساخت اور شرکت کنندگان

 

کونسل کی صدارت بذات خود چانسلر فریڈرش میرس کریں گے، جبکہ مختلف وفاقی وزارتوں کے سربراہان جن میں مالیات، خارجہ، دفاع، داخلہ، انصاف، معیشت و توانائی، ترقیاتی تعاون اور ڈیجیٹل جدیدیت شامل ہیں۔  اس میں مستقل رکن ہوں گے۔

 

علاوہ ازیں، ضرورت پڑنے پر جرمن سکیورٹی اداروں، وفاقی ریاستوں، یورپی یونین، نیٹو اور سکیورٹی ماہرین کو بھی اجلاس میں مدعو کیا جا سکے گا۔ تاہم کونسل کی فیصلہ سازی کابینہ کے فیصلوں سے متصادم نہیں ہو سکے گی۔

 

فیڈرل سکیورٹی کونسل کا انضمام اور نئی اسٹاف یونٹ

 

موجودہ فیڈرل سکیورٹی کونسل (جو اسلحہ برآمدات کی نگرانی کرتی ہے) اور سکیورٹی کابینہ کے افعال کو اس نئی نیشنل سکیورٹی کونسل میں ضم کر دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے چانسلری میں ایک نیا اسٹاف یونٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ابتدائی طور پر 13 نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔

 

بحران کے وقت فوری ردعمل اور طویل مدتی حکمت عملی

 

یہ کونسل صرف ہنگامی حالات میں نہیں بلکہ باقاعدگی سے اجلاس کرے گی تاکہ مختلف نوعیت کے خطرات، جیسے کہ سائبر حملے، بین الاقوامی کشیدگی، یا دہشت گردی کے امکانات، کا بروقت ادراک اور جواب ممکن ہو۔

 

ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے، یوکرین پر روسی چڑھائی، اور افغانستان سے اتحادی افواج کی واپسی جیسے واقعات مستقبل میں ایسے چیلنجز کی مثالیں سمجھی جا رہی ہیں جن پر فوری ردعمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

تھنک ٹینکس اور ماہرین کی شمولیت

 

نئی سکیورٹی پالیسی کی تیاری اور نظرِ ثانی کے عمل میں جرمنی کے تھنک ٹینکس، تحقیقی ادارے اور سکیورٹی ماہرین بھی شامل ہوں گے۔ سابقہ حکومت کی تیار کردہ نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی کو اس نئے فریم ورک میں اپڈیٹ کیا جائے گا۔

 

عوامی شفافیت اور آئینی حدود

 

کونسل کے فیصلے بوقتِ ضرورت عوام کے ساتھ بھی شیئر کیے جا سکیں گے، تاہم اس کا کام وزارتی خود مختاری کو متاثر نہیں کرے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، امریکا کی طرز پر "نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر" کا علیحدہ عہدہ تخلیق نہیں کیا جائے گا۔

 

وزارت خارجہ سمیت دیگر اہم وزارتوں کے ساتھ گہری مشاورت کے بعد تیار کیے گئے اس منصوبے کو ستمبر سے قبل فعال کیے جانے کی امید کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C