جرمنی نے 2024ء میں ریکارڈ 12.8 ارب یورو کے ہتھیار فروخت کیے
👁️ 318 بار دیکھا گیا
جرمنی نے 2024ء میں ریکارڈ 12.8 ارب یورو کے ہتھیار فروخت کیے
برلن (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/روئٹرز) جرمن حکومت نے گزشتہ برس ریکارڈ 12.8 بلین یورو (14.9 بلین ڈالر) مالیت کے ہتھیاروں کی برآمدات کے لیے منظوری دی۔ تاہم برلن حکومت نے پاکستان، تھائی لینڈ اور ملائیشیا سمیت دیگر 62 ممالک کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
بدھ کو جرمن کابینہ کی طرف سے منظوری کے بعد ایک رپورٹ شائع کی گئی، جس کے مطابق یوکرین کے لیے 8.15 بلین یورو مالیت کے دفاعی سازوسامان کی منظوری دی گئی، جو کل برآمدات کا 64 فیصد ہے۔
یوکرین کو دیے گئے 8.15 بلین یورو کے دفاعی سازوسامان میں فوجی گاڑیاں، بم، میزائل سسٹم اور جنگی جہاز شامل ہیں۔ یہ رجحان 2023 سے جاری ہے، جب یوکرین کو 4.4 بلین یورو کے ہتھیار فراہم کیے گئے اور تب مجموعی برآمدات 12.1 بلین یورو تھیں۔
جرمنی کی جانب سے یوکرین کی حمایت اس کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بن چکی ہے، خاص طور پر روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے، جسے جرمن چانسلر اولاف شولس نے 2022 میں ''تاریخی موڑ‘‘ قرار دیا تھا۔
تقریباً 86 فیصد دفاعی سازو سامان یورپی یونین، نیٹو کے رکن ممالک اور یورپی اتحاد کے شراکت دار ممالک جیسے یوکرین، سنگاپور اور جنوبی کوریا کو فراہم کیا گیا۔ سنگاپور کے لیے 1.2 بلین یورو اور الجزائر کے لیے 559 ملین یورو کے ہتھیاروں کی منظوری دی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی اپنی دفاعی برآمدات کو مغربی اتحاد اور اس کے قریبی شراکت داروں تک محدود رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جرمنی نے پاکستان، تھائی لینڈ اور ملائیشیا سمیت 62 ممالک کی درخواستوں کو مسترد کیا۔ یہ فیصلہ جرمنی کی اس پالیسی کا عکاس ہے کہ وہ تنازعات والے علاقوں یا انسانی حقوق کی پامالیوں کے ریکارڈ والے ممالک کو ہتھیاروں کی برآمدات سے گریز کرتا ہے۔ تاہم ماضی میں جرمنی نے مصر اور سعودی عرب جیسے ممالک کو ہتھیار فراہم کیے ہیں، جن کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
سن 2024 میں اسرائیل کے لیے ہتھیاروں کی برآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 161 ملین یورو تک محدود رہی، جبکہ 2023 میں یہ 326.5 ملین یورو تھیں۔ اس کمی کی وجہ غزہ کی جنگ سے متعلق انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے قانونی چیلنجز ہیں۔ اگست 2025 میں جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے اعلان کیا کہ غزہ میں استعمال ہونے والے فوجی سازوسامان کی برآمدات کو ''مزید نوٹس تک‘‘ روک دیا جائے گا۔
امریکہ، روس اور فرانس کے بعد جرمنی دنیا کا چوتھا ہتھیار برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہتھیاروں کی عالمی تجارت میں اس کا حصہ 5.5 فیصد بنتا ہے۔ جرمن ہتھیار ماضی میں ترکی، ایران اور میکسیکو جیسے ممالک میں تنازعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہوئے ہیں، جس سے جرمنی کی ''محدود ہتھیاروں کی برآمدات‘‘ کی پالیسی پر سوالات اٹھتے ہیں
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 273 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 342 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 688 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 602 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 228 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 325 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8963 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4815 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3575 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3481 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C