28/June/2024

حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے 2 ہزار 251 دہشتگردوں کے سروں کی قیمت 3 ارب 31 کروڑ سے زائد روپے مقرر

👁️ 34 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے 2 ہزار 251 دہشتگردوں کے سروں کی قیمت 3 ارب 31 کروڑ سے زائد روپے مقرر

حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے 2 ہزار 251 دہشتگردوں کے سروں کی قیمت 3 ارب 31 کروڑ سے زائد روپے مقرر

پشاور (حسام الدین) خیبرپختونخوا حکومت نے ریاست کو انتہائی مطلوب 2 ہزار 251 دہشت گردوں کے سروں کی قیمت 3 ارب 31 کروڑ 71 لاکھ روپے مقرر کر دی ہے۔

محکمہ داخلہ نے صوبے کے 28 اضلاع میں 2019 سے اب تک 2251 انتہائی مطلوب افراد کے سروں کی قیمت 3 ارب 31 کروڑ 71 لاکھ روپے مقرر کی ہے جن میں 1200 سے زائد انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک اور 975 دہشتگردوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

محکمہ داخلہ کے دستاویز کے مطابق 2019 میں انتہائی مطلوب میں 532 دہشت گردوں کی فہرست مرتب اور ان کے سروں کی قیمت 79 کروڑ 45 لاکھ روپے مقرر کی گئی، اگلے سال یعنی 2020 میں 197 دہشتگردوں کو انتہائی مطلوب قرار دیکر ان کے سر کی قیمت 83 کروڑ 24 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔

2021 میں 168 دہشتگردوں کو انتہائی مطلوب قرار دے کر ان کے سروں کی قیمت 40 کروڑ 17 لاکھ روپے، 2022 میں 429 دہشت گردوں کے سروں کی قیمت 79 کروڑ 42 لاکھ روپے، 2023 میں 294 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کے سروں کی قیمت 46 کروڑ 73 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہیں۔ جبکہ محکمہ داخلہ نے رواں سال سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کی جانب سے 11 دہشتگردوں کے سروں کی قیمت 1 کروڑ 31 لاکھ روپے کرنے کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ یہ نام پہلے سے ہی ان فہرستوں میں شامل رہے ہیں۔

سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے سلیم ربانی کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی جس کو ضلع سوات میں ہلاک کیا گیا۔ ضلع مردان میں 70 لاکھ روپے کی قیمت والے شدت پسند محسن قادراور 50 لاکھ قیمت والے عباس خان کو بھی ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ضلع شمالی وزیرستان میں چار شدت پسندوں حافظ رحمت، جانان، قدر مند عرف تبسم اور رحمت اللہ کو ہلاک کیا جاچکا ہے جن کے سروں کی قیمت 40 لاکھ روپے مقرر تھی جبکہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں قمر زمان کو ہلاک کیا جا چکا ہے جس کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر تھی۔ محکمہ انسداد دہشتگردی کے مطابق ہلاک شدت پسند ریاست کو سکیورٹی فورسز، سیاسی شخصیات کو ٹارگٹ کرنے، بھتہ خوری اور مختلف مقامات پر دھماکوں میں مطلوب تھے۔

محکمہ داخلہ ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا نے متعدد بار انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں ایک ہی دہشتگرد کی تصاویر اور نام کو شامل کیا ہے جبکہ بعض سرکاری ملازمین اور سماجی کارکن شخصیات کو بھی جلدی میں ان فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے جس کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست جمع کی گئی تھی اور عدالت کے احکامات کی روشنی میں ان افراد کے ناموں کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست سے خارج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ نے محکمہ انسداد دہشتگردی خیبرپختونخوا کو رواں سال مارچ میں ایک خط ارسال کیا جس میں 6 افراد کو ریاست کو مطلوب افراد کی فہرست سے فوری طور پر ہٹانے کے احکا مات صادر کئے گئے ۔

محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبہ نورستان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق ان میں 25 ایسے مطلوب افراد بھی ہیں جن کا مستقل پتہ تو افغانستان کے صوبہ نورستان ہے لیکن وہ بوقت ضرورت ضلع چترال آتے رہتے ہیں۔

ان کے علاوہ ان مطلوب افراد میں خیبر پختونخوا کے 28 اور پنجاب کے دو اضلاع سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد شامل کئے گئے ہیں اس فہرست میں پشاورسے 313 ،سوات سے 142، بونیر سے 159، شمالی وزیر ستان سے 154، بنوں سے 88، لکی مروت سے 93، مردان سے 112، صوابی سے 112، چارسدہ سے 45، رسالپور سے 2، نوشہرہ سے 20، کرک سے 31، کوہاٹ سے 71، بٹگرام سے 6، باجوڑ سے 35، دیر اپر سے 17، ڈیر لوئر سے 101، مہمند سے 18، ہنگو سے 11، ہری پور سے 6، مالاکنڈ سے 3، ضلع خیبر سے 19، مانسہرہ سے 8، ضلع ٹانک سے 5، تو رغر، کالام، شیوا، مینائی، کوہستان، ایبٹ آباد سے ایک ایک جبکہ صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک اور اوکاڑہ سے ایک ایک کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی پاکستان (نیکٹا) کی رپورٹ کے مطابق جہاں ملک میں سے سب زیادہ خیبر پختونخوا دہشتگردی کی زد میں ہے وہی صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 1405 افراد کواس فہرست میں شامل کیا گیا جنکا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں 529 اور صوبہ سندھ میں 208 کو کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہیں۔

نیکٹا رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کے 31 اضلاع سے 1405 افراد جن میں ضلع بھکر سے 77 افراد، ضلع پاکپتن سے 33، ضلع جھنگ سے 136، ضلع چکوال سے 40، فیصل آباد سے 53، بہاولنگر سے 33، اٹک سے 59، منڈی بہاالدین سے 18، گجرنوالہ سے 74، ملتان سے 48، مظفر گڑھ سے 65،/لیہ سے 33، راجن پور سے 48، بہاولپور سے 116، وہاڑی سے 42، خوشب سے 19، سیالکوٹ سے 36، خانیوال سے 20، ساہیوال سے 24، جہلم سے 6،/ڈیرہ غازی خان سے 44 ، اوکاڑہ سے 20،/لاہور سے 57، ناررووال سے 12، میاںوالی سے 13، سرگودھا سے 65، لودھراں سے 31، قصور سے 13، گجرات سے 41، رحیم یار خان سے 40 اور چینیوٹ سے 12 کو کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔

نیکٹا رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخو کے 27 اضلاع سے 529 افراد کو کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے جن میں ضلع صوابی سے 37، کوہاٹ سے 16، پشاور سے 56، لوئر دیر سے 93، ڈیرہ اسماعیل خان سے 18، مردان سے 21، ہری پور سے 14، مہمند سے 4، سوات سے 40، ٹانک سے 3، چارسدہ سے 17، نوشہرہ سے 20، دیر اپر سے 48، بنوں سے 14، شانگلہ سے 19، جنوبی وزیرستان سے 15، ہنگو سے 9، ضلع باجوڑ سے 14، لکی مروت سے 7، بونیر سے 19، ایبٹ آباد سے 23، بٹگرام سے 6، تورغر سے 4، ضلع خیبر سے 6 ،شمالی وزیرستان سے 5، مالاکنڈ سے 9 اور ضلع اورکزئی سے 1 شامل ہی۔

نیکٹا رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ کے 19 اضلاع سے 208 افراد جن میں کراچی سے 133، جیکب آباد سے 7، سکھر سے 6، نوشہرو فیروزے سے 4، لاڑکانہ سے 4، قمبر شاہداد کوٹ سے 7، ملیر سے 4، شہید بینظیر آباد سے 5، حیدرآباد سے 4، خیر پور سے 3، سنگھر سے 4، کشمور سے 2 ،میر پورخاص سے 1، کورنگی سے 12، ٹنڈو اللہ یار 1، بدین سے 1، ڈاڈو سے 2 ،شکار پور سے 1، جامشورو سے 2 شامل ہیں۔

نیکٹا نے صوبہ بلوچستان سے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی فہرست جاری نہیں کی ہے.

پاکستان مسلم لیگ ن سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی رشاد خان نے اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) خیبر پختونخوا پر الزام عائد کیا ہے کہ سی ٹی ڈی دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کے بجائے بے گناہ افراد کو گرفتار کرتی ہے اور محکمہ کے اندر چند اہلکار ایسے ہیں جو بارگیننگ کرکے رقم وصول کرتے ہیں اور انہیں بعد میں چھوڑ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں اکثر مزدور اور دکاندار ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی جب ان بے گناہ افراد کو گرفتار کر لیتی ہے تو کئی کئی دن غائب رکھتی ہے جب ان کے خاندان والے انکی تلاش کے لئے سی ٹی ڈی کے پاس جاتے ہیں تو انہیں دیگر قانون نافذ کرانے والے اداروں کہہ کر بھجوا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس طرح کے بہت سے واقعات ان کے حلقے میں ہو چکے ہیں۔

اس ضمن میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) شوکت عباس نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ رکن اسمبلی نے بغیر ثبوت کے الزام عائد کیا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C