18/July/2024

خیبر پختونخوا: ٹانک میں اغوا اور بڑھتے ہوئے پرتشدد کے واقعات، مقامی لوگوں نے قومی جرگہ طلب کرلیا

👁️ 40 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا: ٹانک میں اغوا اور بڑھتے ہوئے پرتشدد کے واقعات، مقامی لوگوں نے قومی جرگہ طلب کرلیا

خیبر پختونخوا: ٹانک میں اغوا اور بڑھتے ہوئے پرتشدد کے واقعات، مقامی لوگوں نے قومی جرگہ طلب کرلیا

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں مقامی لوگوں نے آج ایک جرگہ طلب کیا ہے، جس میں علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس طرح کے درجن سے زیادہ جرگے خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی منعقد ہو چکے ہیں۔

اس جرگے کے ایک رہنما فتو لالہ بھٹنے نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ اب روزانہ کی بنیاد پر تشدد کے واقعات سے تنگ آ چکے ہیں اس لیے اس جرگے میں مطالبات کیے جائیں گے اور یہ احتجاج آئندہ بھی جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرگے میں شامل قبائلی رہنما ٹانک کے لوگوں سے مطالبہ کریں گے کہ دکانوں اور مکانات پر سوگ کے طور پر کالے جھنڈے لہرائے۔

’اس کے علاوہ پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جائے گا جبکہ سرکاری دفاتر کے باہر دھرنے اور احتجاج بھی کیے جائیں گے۔‘

ضلع ٹانک خیبر پختونخواکے جنوب میں واقع ہے اور اس کی سرحد ایک طرف سے جنوبی وزیرستان اور دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہے جبکہ ایک سرحد بلوچستان کے ضلع ژوب کے ساتھ ہے۔

جنوبی اور شمالی وزیرستان اور ان کے ساتھ دیگر شہر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں متعدد فوجی آپریشنز بھی کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں کچھ وقت کے لیے امن قائم ہوتا ہے لیکن اس کے بعد پھر سے تشدد کے واقعات شروع ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے سے ضلع ٹانک میں دہشتگردی کے واقعات میں پھر اضافہ ہوا۔ ٹانک اور اس کے مصافات میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

ند روز پہلے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین اہلکاروں کو مسافر گاڑی سے اتار کر اغوا کر لیا گیا۔ دو روز پہلے اس علاقے میں چوری کے واقعے کی تحقیقات کے لیے آنے والے افراد کو سراغ رساں کتوں سمیت نا معلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

چھٹی پر آئے ہوئے ایف سی اور پولیس کے ایک ایک اہلکار کو بھی کچھ روز قبل قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح لوگوں کا کہنا ہے کہ شام کے بعد وہ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

صرف ٹانک ہی نہیں بلکہ اس وقت تشدد کے واقعات بیشتر جنوبی اضلاع میں پیش آ رہے ہیں۔ ضلع بنوں میں تین روز قبل شدت پسندوں نے چھاونی پر حملہ کر دیا تھا جس میں 8 سکیورٹی اہلکار اور تین عام راہ گیر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز نے 10 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی طرح جنوبی ضلع ڈیر اسماعیل خان کے ساتھ کڑی شموزئی میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں دو لیڈی ہیلتھ ورکرز، ان کے دو بچے اور چوکیدار ہلاک کر دیے گئے تھے۔

اس جھڑپ میں دو سکیورٹی اہلکار اور دو شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C