دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف برلن میں بہت بڑا مظاہرہ
👁️ 24 بار دیکھا گیا
دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف برلن میں بہت بڑا مظاہرہ
برلن (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے ایف پی) وفاقی جرمن دارالحکومت برلن میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد شہریوں نے ملک میں دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سیاست کے خلاف موجودہ ویک اینڈ پر بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ وسطی برلن میں جرمن پارلیمان بنڈس ٹاگ کے قریب کیا گیا۔
اس مظاہرے کے دوران شرکاء وفاقی جرمن پارلیمان کی رائش ٹاگ کہلانے والی تاریخی عمارت کے پاس ہی نہیں بلکہ اس کے ارد گرد بھی جمع تھے۔ ہفتہ تین فروری کو تقریباﹰ پورا دن جاری رہنے والے اس احتجاج کے موقع پر برلن میں اوائل فروری کے عمومی موسمی حالات کے مطابق کافی سردی تھی اور بارش بھی ہوتی رہی تھی۔
وفاقی پارلیمان کے ارد گرد زندہ ‘فائر وال‘
جرمنی میں اسلام کی موجودگی اور مہاجرین اور تارکین وطن کی آمد کی مخالفت کرنے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی) یا ‘متبادل برائے جرمنی‘ اور اس طرح کی سوچ کے حامل دیگر چھوٹے بڑے گروپوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں پناہ کے لیے جرمنی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی مدد کرنے والی تنظیم ‘پرو آزیول‘ کے ایک سرکردہ رکن طارق الاوس نے اس احتجاج کے دوران اپنے خطاب میں کہا، ”ہم نے اپنے مظاہرے کے دوران بنڈس ٹاگ کی عمارت کو چاروں طرف سے اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ ہم نے علامتی طور پر اس پارلیمان کے ارد گرد ایک زندہ (حفاظتی) فائر وال بنا دی ہے۔‘‘
جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف اس مظاہرے کا اہتمام بہت سی سیاسی، سماجی اور فلاحی تنظیموں کے اس اتحاد نے کیا تھا، جس کا نام ہے:”ہاتھوں میں ہاتھ، یکجہتی کا مظاہرہ ابھی!‘‘
پرامن، قانون پسند اور جمہوریت دوست سماجی رویوں کے حامل مظاہرین کے اس احتجاج کے دوران وسطی برلن میں اس مظاہرے کے شرکاء ایک ایسی جگہ پر دور دور تک پھیلے ہوئے نظر آئے، جو وفاقی پارلیمانی عمارت کے سامنے تھی، لیکن وفاقی چانسلر کے دفتر، تاریخی برانڈن برگ گیٹ اور شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن سے زیادہ دور بھی نہیں تھی۔
مسلسل کئی ہفتوں سے جاری عوامی احتجاج
منتظمین نے اس مظاہرے کے شرکاء کی تعداد تین لاکھ تک بتائی ہے، تاہم پولیس کے مطابق برلن میں اس احتجاج میں حصہ لینے والے شہریوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب تھی۔ یہ احتجاج ملک میں ان عوامی مظاہروں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی تھا، جو گزشتہ چند ہفتوں سے جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سوچ کی مذمت میں مسلسل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
کل ہفتے کے روز ہی برلن کے علاوہ بھی جرمنی کے کئی دیگر بڑے شہروں میں بھی ایسے ہی عوامی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق اس احتجاج کے لیے فرائی برگ اور ڈریسڈن جیسے شہروں میں تقریباﹰ 30 ہزار شہری سڑکوں پر نکلے جب کہ نیورمبرگ اور آؤگس برگ جیسے شہروں میں سے ہر ایک میں ایسے مظاہرین کی تعداد تقریباﹰ 25 ہزار تک رہی۔ اس کے علاوہ کئی دیگر شہروں میں بھی ایسے ہی بہت سے مظاہرے کیے گئے، جن میں شامل شہریوں کی تعداد 25 ہزار سے کم تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان میں تجارتی و سرحدی اہداف پر حملے، چاغی میں پانچ گیس باؤزر نذرآتش، واشک میں اماراتی شیوخ کے فارم ہاؤس پر دھاوا
27/July/2026 👁️ 269 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا پولیس نے 83 مطلوب دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر کر دی
27/July/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
لکی مروت: ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں چھٹی پر آئے ایف سی اہلکار ہلاک
27/July/2026 👁️ 207 بار دیکھا گیا
ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی سے پولیس اہلکار کی لاش برآمد
27/July/2026 👁️ 260 بار دیکھا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان: سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک
26/July/2026 👁️ 268 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں آپریشن "العزم" جاری، ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 13 ہوگئی
25/July/2026 👁️ 334 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8983 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4861 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3730 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3603 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2587 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2338 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C