16/May/2026

روس اور یوکرین کے درمیان 400 سے زائد جنگی قیدیوں کا تبادلہ

👁️ 433 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روس اور یوکرین کے درمیان 400 سے زائد جنگی قیدیوں کا تبادلہ

روس اور یوکرین کے درمیان 400 سے زائد جنگی قیدیوں کا تبادلہ

ماسکو/کییف (ڈیلی اردو) ماسکو اور کییف میں حکام نے بتایا کہ روس اور یوکرین نے جمعے کے روز آپس میں ایک دوسرے کے دو دو سو سے زائد جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ یہ تبادلہ اس بیان کے ایک ہفتے بعد ہوا جس میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ دونوں متحارب فریقوں کے درمیان قیدیوں کا ایک بڑا تبادلہ ہونے والا ہے۔

 

روسی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’205 روسی فوجیوں کو کییف کے زیر کنٹرول علاقے سے واپس لایا گیا اور ان کے بدلے 205 یوکرینی جنگی قیدی کییف کے حوالے کر دیے گئے۔‘‘

 

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ روس اور یوکرین ایک دوسرے کے کُل تقریباﹰ 1,000 قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔ اسی موقع پر انہوں نے امریکہ کی ثالثی میں تین روزہ فائر بندی کا اعلان بھی کیا تھا، جو روس کی 9 مئی کی اس سالانہ پریڈ کے دوران نافذ رہی تھی، جس میں دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کا جشن منایا جاتا ہے۔

 

جنگی قیدیوں کا تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت سے تعاون کے اب تک باقی چند شعبوں میں سے ایک ہے، جب روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کر کے جنگ شروع کی تھی۔

 

روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے فوجیوں کو اتحادی ملک بیلاروس منتقل کیا گیا ہے، جہاں ’’انہیں ضروری نفسیاتی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔‘‘

 

اسی دوران یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر لکھا کہ رہا کیے گئے زیادہ تر یوکرینی قیدی 2022 سے روس کی قید میں تھے۔

 

انہوں نے رہا ہونے والے یوکرینی قیدیوں کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں وہ نیلے اور زرد رنگ کے قومی جھنڈوں کو اپنے گرد لپیٹے، مسکراتے ہوئے اور ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C