31/May/2026

روس سے معاہدہ: پاکستان دوبارہ افغان سرزمین پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کریگا، افغان وزیر دفاع

👁️ 461 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روس سے معاہدہ: پاکستان دوبارہ افغان سرزمین پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کریگا، افغان وزیر دفاع

روس سے معاہدہ: پاکستان دوبارہ افغان سرزمین پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کریگا، افغان وزیر دفاع

کابل (ڈیلی اردو) روس کے دورے سے واپسی پر کابل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان کو روس اور افغان طالبان کے درمیان دفاعی نظام کے معاہدے سے تشویش ہے۔

 

انہوں نے کہا، ’’جیسا کہ آپ نے دیکھا، چند ماہ قبل وہ (پاکستان) افغانستان کے کسی بھی حصے پر بمباری کرنے کی جرات رکھتے تھے، اس لیے ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں وہ دوبارہ ایسی جرات نہ کر سکیں۔‘‘

 

اطلاعات کے مطابق روس اور افغان طالبان کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پایا ہے جس میں فضائی دفاعی نظام، زمینی فوجی ساز و سامان اور طالبان حکومت کی افواج کی تربیت بھی شامل ہے۔

 

ملا یعقوب نے ماسکو سے واپسی پر واضح کیا کہ یہ معاہدہ دراصل روسی فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کی مرمت و دیکھ بھال سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی دفاعی یا سکیورٹی معاہدہ نہیں بلکہ تکنیکی نوعیت کا تعاون ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے پاس زیادہ تر روسی ساختہ فوجی ٹیکنالوجی موجود ہے، جن میں ہیلی کاپٹرز اور مختلف آلات شامل ہیں، اور ان کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے تکنیکی تعاون ضروری ہے۔

 

افغان وزیر دفاع کے مطابق مستقبل میں افغانستان کے فضائی دفاعی نظام سے متعلق مزید بات چیت کی ضرورت ہو گی اور اس حوالے سے فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کہ کون سا دفاعی نظام اپنایا جائے اور کن ممالک سے حاصل کیا جائے۔

 

ملا یعقوب کا کہنا تھا کہ افغانستان کسی کو اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، تاہم خطے میں سکیورٹی صورتحال کے باعث دفاعی تعاون کے معاہدے ضروری ہیں۔

 

واضح رہے کہ ملا یعقوب رواں ہفتے ماسکو میں ہونے والے بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شریک ہوئے تھے، جس میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

 

اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ روس اور طالبان کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم طالبان حکومت بعد میں اسے محدود تکنیکی معاہدہ قرار دیتی رہی ہے۔

 

افغانستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ روس 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی کابل میں اپنا سفارت خانہ بند نہیں کر سکا، جبکہ 2022 میں دونوں ممالک کے درمیان تیل، گیس اور گندم کی فراہمی کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں سکیورٹی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے پس منظر میں طالبان حکومت کے روس کے ساتھ دفاعی و تکنیکی تعاون کو خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C