16/May/2026

روس کا “سارمات” میزائل کا کامیاب تجربہ، 10 ٹن وزنی، 35 ہزار کلومیٹر تک مار کی صلاحیت

👁️ 367 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روس کا “سارمات” میزائل کا کامیاب تجربہ، 10 ٹن وزنی، 35 ہزار کلومیٹر تک مار کی صلاحیت

روس کا “سارمات” میزائل کا کامیاب تجربہ، 10 ٹن وزنی، 35 ہزار کلومیٹر تک مار کی صلاحیت

ماسکو (ڈیلی اردو) روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل “سارمات” کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

 

روسی سٹریٹجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکایف نے یہ رپورٹ صدر ولادیمیر پوتن کو پیش کی۔ روسی وزارتِ دفاع نے میزائل کے لانچ کے مناظر بھی جاری کیے ہیں۔

 

روسی حکام کے مطابق یہ اس بھاری بین البراعظمی میزائل کا دوسرا کامیاب تجربہ ہے، جبکہ اس کی پہلی آزمائش 2022 میں کی گئی تھی۔ 2024 میں پلستسک خلائی اڈے سے ممکنہ لانچ کے دوران ایک حادثے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

 

اعلان کردہ خصوصیات کے مطابق “سارمات” دنیا کے سب سے بڑے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں میں سے ایک ہے۔ امریکی مرکز برائے سٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات (CSIS) کے “میزائل تھریٹ” منصوبے کے مطابق اس میزائل کا لانچ وزن تقریباً 10 ٹن بتایا جاتا ہے، جو اس نوعیت کے میزائلوں میں انتہائی زیادہ شمار ہوتا ہے۔

 

روسی صدر کے مطابق اس میزائل کی مبینہ رینج 35 ہزار کلومیٹر تک ہے، جس سے یہ دنیا کے کسی بھی حصے کو مختلف ممکنہ راستوں سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق اس میزائل کی بڑی وارہیڈ صلاحیت اسے ایک ساتھ متعدد جوہری وارہیڈز یا فریب دینے والے اہداف (decoys) لے جانے کے قابل بناتی ہے، جس سے میزائل دفاعی نظام کے لیے اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

 

مزید یہ کہ اس میں گلائیڈ وہیکل ٹیکنالوجی کے استعمال کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، جسے روس میں “آوانگارڈ” پروگرام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہدف کی طرف انتہائی تیز رفتار اور غیر متوقع راستے سے حرکت کر کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 

روسی دفاعی ذرائع کے مطابق یہ میزائل مائع ایندھن سے چلنے والا نظام ہے، جو سائیلوز سے لانچ کیا جاتا ہے۔ مائع ایندھن والے میزائلوں میں ایندھن بھرنے کا عمل پیچیدہ اور خطرناک ہوتا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ٹھوس ایندھن والے میزائل پہلے سے تیار حالت میں ہوتے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق یہ پروگرام نہ صرف عسکری بلکہ اسٹریٹجک اور سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ ایسے ہتھیار عموماً ڈیٹرنس (deterrence) یعنی مخالف کو روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

 

روسی حکام کے مطابق “سارمات” سسٹم سے لیس پہلا میزائل یونٹ 2026 کے آخر تک مکمل جنگی تیاری کی حالت میں آ جائے گا۔ تاہم اب تک اس تجربے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور مغربی ممالک کی جانب سے فوری ردعمل بھی سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C