04/June/2025

روسی صدر پوٹن نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کی حمایت کردی، امریکی صدر ٹرمپ

👁️ 248 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روسی صدر پوٹن نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کی حمایت کردی، امریکی صدر ٹرمپ

روسی صدر پوٹن نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کی حمایت کردی، امریکی صدر ٹرمپ

واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے گفتگو میں ایران کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا اور دونوں رہنماؤں کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

جیسا کہ ہم نے آپ کو کچھ دیر قبل بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق بدھ کے روز ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین کے حالیہ ڈرون حملوں اور ایران کے معاملے پر ’اچھی گفتگو‘ ہوئی ہے۔

امریکی تجاویز کے تحت ایران کو یورینیم کی افزودگی کا عمل بند کرنا چاہیے جو ایٹمی توانائی کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اور اس کے بجائے ایندھن کے حصول کے لیے ایک علاقائی کنسورشیم پر انحصار کرنا چاہیے۔ تاہم سنیچر کے روز پیش کی گئی اس پیشکش پر ایران نے تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ پوتن نے عندیہ دیا کہ وہ ایران سے متعلق ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں اور اس معاملے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے لکھا ’میری رائے میں ایران اس نہایت اہم معاملے پر فیصلہ دینے میں غیر ضروری تاخیر کر رہا ہے۔‘’ہمیں جلد از جلد ایک واضح اور حتمی جواب چاہیے۔‘

پوتن نے یوکرین کو سخت جواب دینے کا عندیہ دیا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین کے حالیہ ڈرون حملوں اور ایران کے معاملے پر ’اچھی گفتگو‘ ہوئی ہے۔

ٹرمپ کے مطابق یوکرین کی جانب سے روس کے اندر واقع فضائی اڈوں پر بڑے ڈرون حملوں کے بعد پوتن نے انھیں بتایا کہ روس کو ان حملوں کا ’جواب دینا پڑے گا۔‘

ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی یہ فون کال فوری امن کی ضمانت نہیں دیتی۔

یوکرین کی جانب سے روس کے جوہری بمباروں کو نشانے بنانے کے بعد بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا رابطہ ہے۔

ٹرمپ نے لکھا:’پوتن نے مجھ سے بہت سختی سے کہا کہ وہ فضائی اڈوں پر یوکرین کے حالیہ حملوں کا جواب ضرور دیں گے۔‘

گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک بیان میں اشارہ دیا تھا کہ اگر دو ہفتوں کے اندر پوتن نے امن عمل میں پیش رفت نہ کی تو امریکہ روس کے خلاف اپنے رویے میں تبدیلی لا سکتا ہے۔

یہ بیان ٹرمپ کے ان مسلسل تنقیدی تبصروں کی کڑی تھا جو وہ حالیہ ہفتوں کے دوران (جب روس نے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملے تیز کیے) روس کے خلاف دیتے آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ پوتن کو ’مکمل طور پر پاگل‘ قرار دے چکے ہیں اور خبردار کر چکے ہیں کہ وہ ’آگ سے کھیل رہے ہیں۔‘

تاہم بدھ کے روز جاری کردہ سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے نہ تو کسی ڈیڈلائن کا ذکر کیا نہ ہی اپنے سابقہ بیانات کا۔

یہ پوسٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب چند روز قبل استنبول میں یوکرین اور روس کے درمیان دوسرے دور کے براہ راست امن مذاکرات بغیر کسی بڑی پیش رفت کے ختم ہوئے۔ تاہم دونوں فریق قیدیوں کے تبادلے پر متفق ہوئے۔

یوکرینی مذاکرات کاروں کے مطابق روس نے ’غیر مشروط جنگ بندی‘ کی تجویز مسترد کر دی جو کیئو اور امریکہ سمیت اس کے مغربی اتحادیوں کا اہم مطالبہ تھا۔

روس کی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ وہ یوکرین کے ’کچھ علاقوں‘ میں کئی روزہ جنگ بندی پر آمادہ ہیں، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C