11/October/2026

ریاض ایئرپورٹ پر حملہ: 12 افراد ہلاک، 309 زخمی؛ سعودی اتحاد کا حوثی باغیوں کےخلاف جوابی کارروائی کا اعلان

👁️ 86 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ریاض ایئرپورٹ پر حملہ: 12 افراد ہلاک، 309 زخمی؛ سعودی اتحاد کا حوثی باغیوں کےخلاف جوابی کارروائی کا اعلان

ریاض ایئرپورٹ پر حملہ: 12 افراد ہلاک، 309 زخمی؛ سعودی اتحاد کا حوثی باغیوں کےخلاف جوابی کارروائی کا اعلان

ریاض (ڈیلی اردو) 
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوگئے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، بنگلہ دیش کے دو شہری اور امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حملے میں ہوائی اڈے کے اندرونی پروازوں کے ٹرمینلز 3 اور 4 پر مشتمل حصے کو نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد ایئرپورٹ پر دھماکے اور زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے ایمبولینسوں کی آمدورفت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حکام نے پروازیں عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور حفاظتی صورتحال کا جائزہ شروع کردیا۔

حوثی باغیوں پر الزام، سعودی اتحاد کا ردعمل

سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملے کا الزام یمن کے حوثی باغیوں پر عائد کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا اور سخت جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ تاہم، حملے کے فوری بعد حوثیوں کی جانب سے اس مخصوص واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا واضح بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق حوثی عہدیدار نے بعد میں سوشل میڈیا پر ریاض ایئرپورٹ کی سرگرمیاں بند ہونے کا دعویٰ کیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے کارروائیاں تیز کی ہیں، جبکہ سعودی اتحاد یمن میں حوثی ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے۔ حوثیوں نے اس سے قبل سعودی فضائی حدود کو فوجی کارروائیوں کا علاقہ قرار دیتے ہوئے فضائی کمپنیوں کو وہاں پروازیں جاری رکھنے کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔

ایک ہفتے میں متعدد حملے، پہلے بھی ہلاکتیں

رائٹرز کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل ہونے والے دو حملوں میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ایئرپورٹ پر کھڑے ایک سعودی مسافر طیارے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات تھیں۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے فضائی دفاع اور شہری ہوابازی کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے تازہ حملے کے جواب کا اعلان کیا ہے، تاہم کارروائی کی نوعیت اور وقت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف حملوں میں شامل ہونے کے امکان کا جائزہ لے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے حملوں کی مذمت کی۔

پروازیں منسوخ، فضائی سفر متاثر

حملے کے بعد ریاض آنے اور جانے والی متعدد پروازیں منسوخ یا دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کردی گئیں۔ مختلف بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی پروازوں کی معطلی یا شیڈول میں تبدیلی کی۔ متاثرہ کمپنیوں میں کویت ایئرویز، اتحاد ایئرویز، ایئر انڈیا، فلائی دبئی، لفتھانزا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سمیت دیگر فضائی ادارے شامل ہیں؛ تاہم ہر کمپنی کی معطلی کی مدت مختلف ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لفتھانزا گروپ نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں 16 اکتوبر تک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ ایئر انڈیا نے بھی حفاظتی صورتحال کے پیش نظر پروازیں روکنے اور شیڈول میں تبدیلی کی اطلاع دی۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے پہلے متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ صورتحال معلوم کریں۔

دمام ایئرپورٹ کے قریب بھی پروجیکٹائل گرنے کی اطلاع

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یہ بھی بتایا کہ ہفتے کے روز مشرقی سعودی شہر دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک پروجیکٹائل گرا۔ اس واقعے سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہوئیں۔ سعودی فضائی حدود میں حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ریاض ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

تازہ حملے کے بعد سعودی حکام ایئرپورٹ کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ واقعے کے اثرات صرف جانی نقصان تک محدود نہیں رہے بلکہ بین الاقوامی پروازوں، مسافروں کی آمدورفت اور خطے کی پہلے سے کشیدہ سکیورٹی صورتحال پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C