23/January/2026

زیلنسکی نے یوکرین-روس-امریکہ مذاکرات کی تاریخ کا اعلان کر دیا

👁️ 231 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
زیلنسکی نے یوکرین-روس-امریکہ مذاکرات کی تاریخ کا اعلان کر دیا

زیلنسکی نے یوکرین-روس-امریکہ مذاکرات کی تاریخ کا اعلان کر دیا

ڈیووس (ڈیلی اردو) ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ کل یعنی جمعے کو متحدہ عرب امارات میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ “سب کو تیار ہونا ہوگا، صرف یوکرین نہیں۔ یہ کسی بھی قسم کے مکالمے نہ ہونے سے بہتر ہے۔”

 

زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کو اپنی ملاقات کو ’انتہائی اہم‘ اور مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امن کے حصول کے لیے امریکہ کا ’بہت مضبوط‘ کردار ضروری ہے، جبکہ یورپ بھی اثرانداز ہو سکتا ہے مگر اسے وقت درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات ’تقریباً تیار‘ ہیں۔

 

یوکرینی صدر نے کہا کہ اپنے ملک کا دفاع کرنا ایک ’انتہائی مہنگا کام‘ ہے۔ انہوں نے عالمی کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ یوکرین میں سرمایہ کاری کریں اور اس یقین کے ساتھ آئیں کہ امن قائم ہوگا۔ زیلنسکی نے کہا، “نوکریاں، سرمایہ، سرمایہ کاری – یہ سب یوکرین کو پیش کریں۔”

 

یورپ اور امریکہ پر تنقید

 

زیلنسکی نے یورپ اور امریکہ کو روس کو میزائل کے پرزے فروخت کرنے سے نہ روکنے پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، “یورپ خاموش ہے، امریکہ تقریباً خاموش ہے، اور پوتن میزائل بنا رہا ہے۔”

 

ان کے مطابق یورپ ایک ’خوبصورت مگر منتشر کالیڈوسکوپ‘ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کی طاقتوں میں بٹا ہوا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کو اپنی حفاظت کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کئی ممالک نے دفاعی وعدے اس وقت پورے کیے جب ٹرمپ نے دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کہا، “یہ پیغام پوتن اور چین کو کیا دیتا ہے؟” اور مزید کہا کہ صرف چند فوجی بھیجنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

 

“اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی”

یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی تیل کی آمدنی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ “اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو، تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی۔”

 

انہوں نے تجویز دی کہ یورپ کو اپنی مسلح افواج قائم کرنی چاہئیں کیونکہ نیٹو صرف اس یقین پر قائم ہے کہ امریکہ مدد کرے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا، “لیکن اگر امریکہ (مدد) نہ کرے تو کیا ہوگا؟”

 

مذاکرات اور مستقبل کا منظرنامہ

 

یوکرین کے صدر کے لیے امریکی صدر کو سکیورٹی ضمانتوں پر آمادہ کرنا ایک اہم کامیابی ہے، لیکن اب توجہ امریکہ اور روس کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات پر ہوگی جو متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ہیں۔

 

ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ وہ ماسکو سے ابو ظہبی جائیں گے اور زیلنسکی پہلے ہی اپنی ٹیم کا اعلان کر چکے ہیں جس میں ان کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

 

سٹیو وٹکوف کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان بڑا اختلافی مسئلہ ’حل طلب‘ ہے، اور زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ یہ سب مشرقی یوکرین کی زمین کے بارے میں ہے۔

 

سوال یہ ہے کہ کیا پوتن امریکی منصوبے پر رضامند ہوں گے جس کے تحت ڈونباس کو غیر فوجی اور آزاد تجارتی زون بنایا جائے، یا وہ روسی کنٹرول کا مطالبہ جاری رکھیں گے؟

 

سفارت کاری کی رفتار واضح طور پر تیز ہو گئی ہے، لیکن امریکی سکیورٹی ضمانتیں جلد دستخط نہیں ہوں گی۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے امریکی کانگریس اور یوکرینی پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہوگا۔

 

ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ان میں کیا شامل ہوگا—کئیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو 50 سال تک یوکرین کی مدد کا عہد کرنا چاہیے، مگر یہ ایک پرامید خواہش رہی ہے۔

 

زیلنسکی کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کے ‘بیک سٹاپ’ کے بغیر، برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں قائم اتحادی اتحاد کافی نہیں ہوگا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C