16/December/2025

سعودی عرب میں رواں سال سزائے موت کا نیا ریکارڈ، 340 افراد سرقلم

👁️ 297 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب میں رواں سال سزائے موت کا نیا ریکارڈ، 340 افراد سرقلم

سعودی عرب میں رواں سال سزائے موت کا نیا ریکارڈ، 340 افراد سرقلم

ریاض (ڈیلی اردو/اے ایف پی) سعودی عرب نے رواں سال سزائے موت پر عمل درآمد کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ پیر کے روز مزید تین افراد کو سرقلم کیا گیا، جس کے بعد رواں سال اب تک سرقلم کیے جانے والوں کی مجموعی تعداد 340 ہو گئی ہے۔

 

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ سعودی عرب نے سزائے موت کے حوالے سے اپنی ہی سابقہ بلند ترین سطح کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس سے قبل 2024 میں مجموعی طور پر 338 افراد کو سرقلم کیا گیا تھا۔

 

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ ریجن میں قتل کے مقدمات میں ملوث تین افراد کو سرقلم کیا گیا۔ تاہم اے ایف پی کے مطابق رواں سال دی گئی مجموعی سزاؤں میں سے 232 کا تعلق منشیات کے مقدمات سے تھا، جو مجموعی تعداد کی واضح اکثریت بنتی ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق سزائے موت میں اس نمایاں اضافے کو سعودی عرب کی جانب سے 2023 میں شروع کی گئی ’’منشیات کے خلاف جنگ‘‘ سے جوڑا جا رہا ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں گرفتار افراد کو عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سرقلم کیا جا رہا ہے۔

 

سعودی عرب نے تقریباً تین سال کے وقفے کے بعد 2022 کے آخر میں منشیات کے مقدمات میں سزائے موت پر دوبارہ عمل درآمد شروع کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق سعودی عرب دنیا میں کیپٹاگون نامی نشہ آور مادے کی بڑی منڈیوں میں شامل ہے، جو شام میں بشار الاسد کے دور میں ایک بڑی غیر قانونی برآمد تھا۔

 

منشیات کے خلاف مہم کے تحت ملک بھر میں شاہراہوں اور سرحدی گزرگاہوں پر چیک پوسٹس کی تعداد میں اضافہ کیا گیا، جہاں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں نشہ آور گولیاں ضبط کی گئیں اور درجنوں اسمگلرز کو گرفتار کیا گیا۔

 

انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق اس مہم کا سب سے زیادہ نشانہ غیر ملکی شہری بن رہے ہیں، حالانکہ سعودی عرب کی معیشت کے کئی شعبے غیر ملکی محنت کشوں پر انحصار کرتے ہیں۔

 

انسانی حقوق کی تنظیمیں سعودی عرب میں سزائے موت کے وسیع استعمال پر سخت تنقید کر رہی ہیں۔ ریپریو نامی تنظیم کی نمائندہ ہیریئٹ مکلوچ کے مطابق متعدد افراد پرتشدد جرائم میں ملوث نہیں تھے اور انہیں سرقلم کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

 

ناقدین کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا بڑھتا ہوا رجحان ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت ایک جدید اور کھلے سعودی معاشرے کے تاثر کو نقصان پہنچاتا ہے۔

 

تاہم سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ سزائے موت عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور ہر مقدمے میں تمام قانونی مراحل اور اپیلوں کے بعد ہی افراد کو سرقلم کیا جاتا ہے۔

 

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق چین اور ایران کے بعد سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے دنیا میں سزائے موت دینے والا تیسرا بڑا ملک رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C