سعودی عرب میں پاکستانی لڑاکا طیارے اور ہزاروں فوجی تعینات
👁️ 306 بار دیکھا گیا
سعودی عرب میں پاکستانی لڑاکا طیارے اور ہزاروں فوجی تعینات
ریاض (ڈیلی اردو/روئٹرز) سعودی عرب میں پاکستانی لڑاکا طیاروں اور ہزاروں فوجی تعینات کیے جانے کی مکمل تفصیلات پہلی بار سامنے آئی ہیں، جن کی تصدیق تین سکیورٹی حکام اور دو حکومتی ذرائع نے کر دی ہے۔
ان تمام ذرائع کے مطابق یہ ایک بڑی، مکمل طور پر جنگی صلاحیت رکھنے والی فورس ہے، جس کا مقصد سعودی عرب پر مزید حملوں کی صورت میں مملکت کی فوجی مدد کرنا ہے۔
پاکستان کی فوج، دفتر خارجہ اور سعودی عرب کے سرکاری میڈیا دفتر نے اس تعیناتی سے متعلق تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ، جو گزشتہ سال طے پایا تھا، کی مکمل شرائط خفیہ رکھی گئی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک یہ کہہ چکے ہیں کہ 'کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا‘۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اس سے پہلے اشارہ دے چکے ہیں کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب پاکستان کے جوہری تحفظ کے دائرے میں آتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے تقریباً 16 جنگی طیاروں پر مشتمل ایک مکمل اسکواڈرن سعودی عرب بھیجا، جن میں زیادہ تر چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے جے ایف-17 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
یہ طیارے اپریل کے آغاز میں سعودی عرب روانہ کیے گئے تھے۔ دو سکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستان نے ڈرونز کے دو اسکواڈرن بھی روانہ کیے۔
پانچوں ذرائع کے مطابق اس تعیناتی میں تقریباً 8 ہزار فوجی شامل ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید فوج بھیجنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں چین کا تیار کردہ ایچ کیو-9 فضائی دفاعی نظام بھی تعینات کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام عسکری سازوسامان پاکستانی اہلکار چلا رہے ہیں جبکہ اس کی مالی معاونت سعودی عرب کر رہا ہے۔
دو سکیورٹی حکام کے مطابق سعودی عرب میں تعینات کیے گئے فوجی اور فضائیہ کے اہلکار بنیادی طور پر مشاورتی اور تربیتی کردار ادا کریں گے۔ ان حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی خط و کتابت اور فوجی اثاثوں کی تعیناتی سے متعلق دستاویزات دیکھی ہیں۔
تینوں سکیورٹی حکام نے بتایا کہ اس نئی تعیناتی کے علاوہ بھی ہزاروں پاکستانی فوجی پہلے سے سعودی عرب میں مختلف معاہدوں کے تحت دفاعی کردار کے لیے موجود تھے۔
ایک حکومتی ذریعے، جس نے خفیہ دفاعی معاہدے کا متن دیکھا ہے، نے روئٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ضرورت پڑنے پر 80 ہزار تک پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ سعودی افواج کے ساتھ مل کر مملکت کی سرحدوں کے تحفظ میں مدد کریں۔
دو سکیورٹی حکام نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں پاکستانی جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے، تاہم روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا کوئی بحری جہاز سعودی عرب پہنچا ہے۔
دو سکیورٹی حکام کے مطابق سعودی عرب میں تعینات کیے گئے فوجی اور فضائیہ کے اہلکار بنیادی طور پر مشاورتی اور تربیتی کردار ادا کریں گے۔ ان حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی خط و کتابت اور فوجی اثاثوں کی تعیناتی سے متعلق دستاویزات دیکھی ہیں۔
تینوں سکیورٹی حکام نے بتایا کہ اس نئی تعیناتی کے علاوہ بھی ہزاروں پاکستانی فوجی پہلے سے سعودی عرب میں مختلف معاہدوں کے تحت دفاعی کردار کے لیے موجود تھے۔
ایک حکومتی ذریعے، جس نے خفیہ دفاعی معاہدے کا متن دیکھا ہے، نے روئٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ضرورت پڑنے پر 80 ہزار تک پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ سعودی افواج کے ساتھ مل کر مملکت کی سرحدوں کے تحفظ میں مدد کریں۔
دو سکیورٹی حکام نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں پاکستانی جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے، تاہم روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا کوئی بحری جہاز سعودی عرب پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق تعیناتی کی نوعیت اور حجم، جن میں لڑاکا طیارے، فضائی دفاعی نظام اور ہزاروں فوجی شامل ہیں، اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان نے صرف علامتی یا مشاورتی مشن سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔
روئٹرز اس سے قبل رپورٹ کر چکا ہے کہ ایران کے حملوں میں سعودی عرب کے اہم توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے اور ایک سعودی شہری کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کو لڑاکا طیارے بھیجے تھے۔ ان حملوں کے بعد خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ خلیجی مملکت سخت ردعمل دے سکتی ہے اور تنازعہ مزید پھیل سکتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت اس وقت ہوئی جب بعد میں اسلام آباد اس جنگ میں اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں مدد دی، جو گزشتہ چھ ہفتوں سے برقرار ہے۔
اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے واحد امن مذاکرات کی میزبانی بھی اسلام آباد نے کی تھی، جبکہ مزید مذاکرات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم بعد میں فریقین نے انہیں منسوخ کر دیا۔
روئٹرز یہ بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ سعودی عرب نے مملکت کے اندر کیے گئے حملوں کے جواب میں ایران پر متعدد غیر اعلانیہ حملے کیے تھے۔
پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جس میں تربیت اور مشاورتی مشنز شامل ہیں، جبکہ ریاض بھی مختلف معاشی بحرانوں کے دوران بارہا اسلام آباد کی مالی مدد کرتا رہا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 126 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 154 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 255 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 233 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 143 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 320 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8962 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4813 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3450 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C