سنگین معاشی بحران: سری لنکا میں احتجاجی مظاہروں کے بعد پوری کابینہ مستعفی
👁️ 29 بار دیکھا گیا
سنگین معاشی بحران: سری لنکا میں احتجاجی مظاہروں کے بعد پوری کابینہ مستعفی
کولمبو (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی) سری لنکا میں معاشی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے، جس کے خلاف مظاہروں کے سبب کابینہ کے تمام وزیر مستعفی ہو گئے۔ تاہم صدر ابھی تک اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جن کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
سری لنکا میں اتوار کی رات کو ہونے والی ایک اہم میٹنگ کے بعد کابینہ کے تمام وزراء نے اجتماعی طور پر اپنے استعفے پیش کر دیے اور اب چار اپریل یعنی پیر کے روز حکومت نئی کابینہ کی تقرر کرنے والی ہے۔
وزیر تعلیم دنیش گناوردینا نے کہا کہ ”تمام وزراء نے اپنے استعفے سونپ دیے ہیں تاکہ صدر ایک نئی کابینہ تشکیل دے سکیں۔”
یہ استعفے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اتوار کے روز ہزاروں افراد ملک گیر کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر سڑکوں پر نکل آئے اور معاشی بحران سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔
وزیر خزانہ باسل راجا پکسے، وزیر زراعت چمل راجا پکسے اور وزیر کھیل نمل راجا پکسے سمیت کابینہ کے تمام 26 وزراء نے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم صدر گوٹابایا راجا پکسے اور ان کے بھائی وزیر اعظم مہندا راجا پکسے اب بھی اپنے عہدوں پر برقرار ہیں۔
احتجاج میں شدت
حکومت نے احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ملک گیر کرفیو نافذ کر رکھا ہے تاہم اتوار کے روز ملکی صدر کی برطرفی کا مطالبہ کرنے کے لیے حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان سمیت ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے۔
صدر گوٹابایا راجا پکسے پر معاشی بدانتظامی کا الزام ہے جس کے سبب سری لنکا کے عام شہریوں کو مہینوں سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آسمان چھوتی افراط زر کی شرحیں اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اس جنوب ایشیائی ملک میں فی الوقت بہت سے
لوگوں کو اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔
غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے ایندھن کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور لوگ دن میں کئی گھنٹے بجلی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
گزشتہ ہفتے مظاہروں کے پرتشدد ہونے کے بعد صدر راجا پکسے نے بڑھتی ہوئی سیاسی بدامنی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا تھا۔ پھر اواخر ہفتہ، حکومت نے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور اسے محدود کرنے کے لیے ملک گیر کرفیو نافذ کر دیا۔
سنیچر کے روز احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے بہت سے لوگوں کی گرفتار بھی کیا گیا، تاہم اس کے باوجود اتوار کو بھی احتجاج کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
حکومت نے ان اقدام سے قبل سوشل میڈیا تک رسائی پر بھی پابندی عائد کر دی تھی تاہم حکومت ان تمام اقدامات کے باجود مظاہرین کو روکنے میں ناکام رہی۔ ملک کے بہت سے چھوٹے اور بڑے گروپ اپنی مایوسی کا اظہار کرنے کے لیے مسلسل مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مظاہرین صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سری لنکا کی حکومت نے اتوار کے روز بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر سوشل میڈیا سائٹس پر عائد پابندیوں کو واپس لے لیا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 111 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 82 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 258 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 199 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 205 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8850 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4608 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3301 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2471 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2124 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1917 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C