17/August/2026

سوڈان میں جنگ سے صحت کا نظام مفلوج، اسپتال اور طبی عملہ بھی نشانے پر

👁️ 127 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سوڈان میں جنگ سے صحت کا نظام مفلوج، اسپتال اور طبی عملہ بھی نشانے پر

سوڈان میں جنگ سے صحت کا نظام مفلوج، اسپتال اور طبی عملہ بھی نشانے پر

 خرطوم (ڈیلی اردو) سوڈان میں تین سال سے جاری جنگ نے صحت کے شعبے کو شدید تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ اسپتالوں اور طبی مراکز پر حملوں، طبی عملے کی کمی، ادویات اور بجلی کی قلت کے باعث لاکھوں افراد بنیادی علاج سے محروم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2026 کے آغاز سے دنیا بھر میں صحت کے مراکز اور طبی عملے پر 900 سے زائد حملے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، جن میں کم از کم 900 افراد ہلاک اور 1400 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

 

سوڈان کے 37 فیصد طبی مراکز غیر فعال

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سوڈان کی 18 ریاستوں میں موجود صحت کی سہولیات کا تقریباً 37 فیصد حصہ اب خدمات فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ان مراکز کی بندش کی بڑی وجوہات میں بمباری، عمارتوں اور طبی آلات کی تباہی، طبی عملے کی کمی، ادویات کی قلت، بجلی اور پانی کی بندش اور طبی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ شامل ہیں۔

دارفور اور کردفان جیسے جنگ زدہ علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں کئی اسپتال مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں جبکہ بعض مراکز انتہائی محدود وسائل کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 15 اپریل 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے سوڈان میں صحت کے مراکز اور طبی عملے پر 217 حملوں کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں 2 ہزار 52 افراد ہلاک اور 810 زخمی ہوئے۔ تاہم جنگ زدہ علاقوں تک رسائی اور معلومات کی تصدیق میں مشکلات کے باعث اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

 

لاکھوں افراد علاج کی سہولت سے محروم

عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق سوڈان میں تقریباً 21 ملین افراد کو مطلوبہ طبی سہولیات میسر نہیں، جبکہ ملک میں 34 ملین افراد کو کسی نہ کسی شکل میں انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

جنگ کے ساتھ غذائی قلت اور مختلف بیماریوں نے بھی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ 2026 کے دوران 40 لاکھ سے زیادہ افراد کو شدید غذائی قلت کا خطرہ درپیش ہے، جبکہ متعدد ریاستوں میں ملیریا، ڈینگی، خسرہ، پولیو، ہیپاٹائٹس، گردن توڑ بخار اور ڈفتھیریا کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

صاف پانی کی کمی، نکاسی آب کے نظام کی خرابی اور بے گھر افراد کے کیمپوں میں شدید رش نے وبائی امراض کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ کردیا ہے، خصوصاً ہیضہ بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

 

اسپتال بھی جنگ کی زد میں

دارفور اور کردفان میں طبی مراکز پر ہونے والے حملے صحت کے شعبے کو درپیش خطرات کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ مارچ میں مشرقی دارفور کے الضعین ٹیچنگ اسپتال پر فضائی حملے میں بچوں اور طبی عملے سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے اور اسپتال کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔

یہ اسپتال مشرقی دارفور اور ملحقہ علاقوں میں لاکھوں افراد کے لیے اہم طبی مرکز تھا۔ اس کی بندش سے ہنگامی علاج، سرجری اور خواتین و بچوں کی طبی خدمات بھی شدید متاثر ہوئیں۔

کردفان میں بھی مختلف طبی مراکز لڑائی اور ڈرون حملوں سے متاثر ہوئے، جبکہ دیگر علاقوں میں ادویات ختم ہونے یا طبی اداروں کو مالی معاونت فراہم کرنے والی تنظیموں کے انخلا کے باعث مراکز نے کام بند کردیا۔

مشرقی دارفور کے شعریہ قصبے میں بھی ایک طبی مرکز کا زچگی یونٹ اور فارمیسی بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ اسی طرح شمالی دارفور کے طویلہ علاقے میں بے گھر افراد کی بڑی تعداد، صاف پانی کی کمی اور ناقص نکاسی آب کے باعث ہیضہ اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سامنا کررہی ہے۔

 

ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی ملک چھوڑنے پر مجبور

سوڈان کے صحت کے نظام کا بحران صرف اسپتالوں کی تباہی تک محدود نہیں۔ جنگ کے باعث بڑی تعداد میں ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی کارکن ملک چھوڑ چکے ہیں، جبکہ ادویات، ویکسین اور ایندھن کی ترسیل بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

بجلی کی بندش سے انتہائی نگہداشت کے یونٹس، لیبارٹریوں، خون اور ویکسین کو محفوظ رکھنے والے نظام متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ایندھن کی قلت نے ایمبولینسوں اور اسپتالوں کے جنریٹرز کو بھی غیر فعال کردیا ہے۔

محصور یا دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات اب بڑی حد تک رضاکاروں اور ہنگامی امدادی مراکز کے سہارے چل رہی ہیں، جو محدود وسائل اور مسلسل خطرات کے باوجود مریضوں کو خدمات فراہم کررہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت اور اس کے شراکت دار جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہزاروں ٹن ادویات اور طبی سامان سوڈان پہنچا چکے ہیں اور لاکھوں افراد کو بنیادی طبی خدمات فراہم کی گئی ہیں، تاہم ادارے کے مطابق ضروریات کے مقابلے میں دستیاب وسائل اب بھی انتہائی کم ہیں۔

 

طبی مراکز پر حملے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسپتالوں، طبی عملے، مریضوں اور ایمبولینسوں کو جنگ کے دوران تحفظ حاصل ہے اور تنازع میں شامل فریقوں پر لازم ہے کہ وہ طبی مراکز کا احترام کریں اور امدادی سامان و طبی عملے کی رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

تاہم صحت کے شعبے پر حملوں کے واقعات میں اضافے کے باوجود ان خلاف ورزیوں پر مؤثر احتساب نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ طبی مراکز کو نشانہ بنانے سے نہ صرف فوری طور پر ہلاکتیں اور زخمی ہوتے ہیں بلکہ طویل مدت تک علاج معطل رہنے کے باعث بالواسطہ اموات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

مزمن بیماریوں کے علاج، زچگی، ویکسینیشن، سرجری اور وبائی امراض کی روک تھام جیسی بنیادی خدمات متاثر ہونے سے جنگ کے اثرات کئی سال تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

 

جنگ کا دوسرا مہلک پہلو

سوڈان میں جاری جنگ کے اثرات صرف گولی اور بم سے ہونے والی ہلاکتوں تک محدود نہیں۔ اسپتال کی بندش، ادویات کی عدم دستیابی، طبی عملے کے فرار اور غذائی قلت بھی شہریوں کی زندگیوں کے لیے جان لیوا ثابت ہورہے ہیں۔

جنگ کا ہر اضافی دن مزید طبی مراکز کی بندش، علاج سے محروم آبادی میں اضافے، بھوک اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے۔ اپریل 2023 سے جاری لڑائی نے سوڈان کے صحت کے نظام کو اس حد تک متاثر کردیا ہے کہ طبی بحران اب جنگ کے سب سے خطرناک انسانی نتائج میں شمار ہونے لگا ہے۔

سوڈان میں جاری تنازع نے لاکھوں افراد کو بے گھر اور پناہ گزین کردیا ہے، جبکہ مسلسل لڑائی کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جارہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C