07/December/2025

سپن بولدک اور چمن سرحد پر شدید جھڑپیں؛ 4 افغان شہری ہلاک، 3 ہاکستانی زخمی بڑے پیمانے پر نقل مکانی

👁️ 259 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سپن بولدک اور چمن سرحد پر شدید جھڑپیں؛ 4 افغان شہری ہلاک، 3 ہاکستانی زخمی بڑے پیمانے پر نقل مکانی

سپن بولدک اور چمن سرحد پر شدید جھڑپیں؛ 4 افغان شہری ہلاک، 3 ہاکستانی زخمی بڑے پیمانے پر نقل مکانی

کوئٹہ/کابل  (ڈیلی اردو) افغانستان کے سرحدی ضلع سپن بولدک اور پاکستان کے صوبے  بلوچستان کے شہر چمن میں گزشتہ شب پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم چار افغان شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ 

 

جھڑپیں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں جس سے دونوں جانب سرحدی آبادیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

 

سپن بولدک میں چار افغان شہری ہلاک، کئی زخمی

 

اطلاعات کے مطابق فائرنگ اور گولہ باری کے دوران سپن بولدک میں چار شہری ہلاک ہوئے جن میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

 

مقامی افراد نے بتایا کہ جھڑپیں رات گئے تک جاری رہیں، جس کے باعث سرحد سے ملحقہ علاقوں میں رہائشی خاندان اپنی حفاظت کے لیے گھروں سے نکل کر کھلے میدانوں اور قندھار شہر کی طرف منتقل ہونے لگے۔

 

لوگوں کا کہنا ہے کہ سرد موسم کی وجہ سے صورتحال اور بھی سنگین رہی، کئی خاندانوں نے پوری رات کھلے آسمان تلے صحرا میں گزاری۔

 

ایک رہائشی کے مطابق:“ہماری رات بے چین اور خوفناک تھی۔ جھڑپوں کی آوازیں پوری رات سنائی دیتی رہیں۔ ہم سرحد سے تقریباً دو کلومیٹر دور رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں اپنے گھروں سے نکلنا پڑا۔“

 

چمن میں تین پاکستانی شہری زخمی

 

پاکستان کی جانب بلوچستان کے ضلع چمن کے سرحدی دیہاتوں میں بھی گولہ باری سے تین شہری زخمی ہوئے۔

 

سرحدی گاؤں گلدار باغیچہ میں ایک گولہ ایک مقامی گھر میں آ گرا جس سے ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچی زخمی ہو گئے۔

مقامی باشندوں نے بتایا کہ فائرنگ کے آغاز کے ساتھ ہی سرحد کے قریب تمام دیہاتوں میں لوگ گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔

 

چمن شہر اور اس کے مضافات میں پوری رات خوف و ہراس کی فضا قائم رہی۔

 

کلی لقمان کے ایک رہائشی نے بتایا کہ جھڑپوں کا سلسلہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک جاری رہا۔

 

پھر حالات خاموش تو ہوئے مگر علاقے کی فضا اب بھی تناؤ کا شکار ہے۔

 

ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، سکیورٹی ہائی الرٹ

 

چمن کے ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے واقعے کے بعد ضلع بھر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔

 

ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن اور دیگر طبی مراکز میں اضافی عملہ، ایمرجنسی ادویات اور ضروری انتظامات فوری طور پر فراہم کیے گئے۔

 

ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سکیورٹی اداروں نے رات بھر صورتحال پر نظر رکھی اور ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کیں۔

 

اس وقت فائرنگ کا سلسلہ رک چکا ہے تاہم سرحدی علاقوں کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

 

سرحد کی طویل بندش، مقامی کاروبار تباہ

 

چمن اور سپن بولدک کی سرحد 12 اکتوبر سے ہر قسم کی تجارت اور آمد و رفت کے لیے بند ہے، جس کے باعث مقامی کاروباری طبقہ بدترین مالی بحران کا شکار ہے۔

 

چمن کے تاجر رہنماؤں کے مطابق روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور بیکار ہو چکے ہیں جبکہ افغانستان میں پھنسے سینکڑوں پاکستانی تاجر اپنے گھروں کو واپس نہیں آ پا رہے۔

 

چمن کے تاجروں کا مطالبہ ہے کہ سرحد کو فوری طور پر عوامی آمد و رفت اور تجارت کے لیے کھولا جائے، اور دونوں ممالک اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C