طالبان کا دعویٰ: امریکا نے سراج الدین حقانی پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا
👁️ 117 بار دیکھا گیا
طالبان کا دعویٰ: امریکا نے سراج الدین حقانی پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا
کابل + لندن (ڈیلی اردو/رائٹرز/بی بی سی) طالبان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے سراج الدین حقانی پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے انعام کو منسوخ کرتے ہوئے انھیں مطلوب افراد کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے طالبان حکومت کی وزارت داخلہ کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
عرب نیوز میں شائع خبر کے مطابق سراج الدین حقانی نے جنوری 2008 میں کابل کے سرینا ہوٹل پر حملے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا تھا، جس میں امریکی شہری تھور ڈیوڈ ہسلا سمیت 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اب سراج الدین حقانی کی تصویر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی انعامات برائے انصاف کی ویب سائٹ پر نظر نہیں آتی، تاہم اتوار کے روز بھی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی ویب سائٹ پر اب بھی ان کے لیے ’مطلوب‘ کا پوسٹر موجود ہے۔
عبدالمتین قانی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’ان تینوں افراد میں سے 2 سگے بھائی اور ایک ان کے چچا زاد بھائی ہیں۔
حقانی نیٹ ورک 2001 میں افغانستان پر امریکی قیادت میں حملے کے بعد طالبان کے مہلک ترین ہتھیاروں میں سے ایک بن گیا۔
اس گروپ نے سڑک کنارے بم، خودکش بم دھماکوں اور دیگر حملوں کا استعمال کیا، جن میں بھارتی اور امریکی سفارتخانوں، افغان صدر اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ماضی میں گروپ کا تعلق اغوا اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے بھی رہا۔
طالبان حکام کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کے علاوہ دو دیگر طالبان رہنماؤں کے نام بھی مطلوب افراد کی فہرست سے نکالے گئے ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی ویب سائٹ پر ابھی بھی سراج الدین حقانی کی گرفتاری کی اطلاع دینے والے کے لیے 10 ملین ڈالر کے انعام کا اعلان موجود ہے۔
سراج الدین حقانی، عبدالعزیز حقانی اور یحییٰ حقانی کے ساتھ افغانستان میں امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ہلاکت خیز حملوں کی منصوبہ بندی اور اس میں حصہ لینے کے الزامات میں امریکہ کو مطلوب تھے۔
سراج الدین حقانی کے بھائی اور طالبان تحریک کے ایک سینیئر رکن انس حقانی نے الجزیرہ ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ نے ہمیں صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے اور یہ محسوس کیا ہے کہ افغانستان اب کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ جن پانچ طالبان کے ارکان کے لیے انعامات مقرر کیے گئے تھے وہ حال ہی میں اجلاسوں اور دیگر سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔
انس حقانی کا کہنا ہے کہ طالبان رہنماؤں کا نام بلیک لسٹ سے نکالنا دوحہ معاہدے کا حصہ ہے۔
پابندی ہٹانے کا اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان نے جمعرات کو جارج گلیزمین نامی ایک امریکی شہری کو دو سال کی قید کے بعد رہا کیا تھا۔
انھیں قیدیوں کے معاملات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مشیر ایڈم بوہلر اور افغانستان کے لیے سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے کابل کے دورے کے بعد رہا کیا گیا، جنہوں نے طالبان حکومت کی جانب سے ان کی رہائی کو “نیک نیتی کا اقدام” قرار دیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ گلیزمین کی رہائی ایک “مثبت اور تعمیری قدم” کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی رہائی کو یقینی بنانے میں قطر کے “اہم” کردار کے لیے بھی شکریہ ادا کیا۔
سراج الدین حقانی نے جنوری میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا سفر کیا تھا اور اس وقت ان کی افغانستان واپسی کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اعلان کیا کہ سراج الدین حقانی کو 23 جنوری سے 3 فروری تک عمرہ کے لیے سفری چھوٹ دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مسٹر حقانی نے اس سفر کے دوران متحدہ عرب امارات میں ملاقاتیں بھی کیں۔
امریکی حکام نے ابھی تک مسٹر حقانی کا نام پابندیوں کی فہرست سے نکالے جانے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن یقین ہے کہ ایسا ہو رہا ہے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ طالبان کی طرف ایک طرح کی مصروفیت کا ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ اگرچہ مسٹر ٹرمپ نے حال ہی میں طالبان حکومت کو بقیہ امریکی ہتھیاروں کے بارے میں خبردار کیا تھا، لیکن وہ انہیں واپس لینا چاہتے ہیں۔
تین سال سے زائد عرصے سے اقتدار میں رہنے والی طالبان کی حکومت کو انسانی حقوق کے ریکارڈ، خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندیوں کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے، ساتھ ہی ساتھ مغربی ممالک بھی طالبان کے ساتھ انسانی حقوق کے احترام کی شرط پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
چند دن قبل سراج الدین حقانی کے استعفے سے متعلق بھی خبریں سامنے آئی تھیں جن کی طالبان کی افغان وزرات داخلہ نے تردید کر دی تھی۔
حقانی کا اثر و رسوخ
سراج الدین حقانی کا اثرو رسوخ بنیادی طور پر افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے خوست، پکتیا، پکتیکا اور یہاں تک کہ کابل کے جنوب میں لوگر تک ہے۔ ان علاقوں میں پشتونوں کے تین بڑے قبائل میں سے دو غلزئی اور کرلانی پشتون آباد ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض مغربی تجزیہ کار انھیں افغانستان میں پشتونوں کے دو بڑی شاخوں غلزئی اور درانی قبائل کے درمیان پائی جانے والی تاریخی دشمنی یا رقابت میں امن کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انھیں اپنے اس کردار کی وجہ سے افغانستان میں ’ایک مضبوط اور اہم شخصیت کا مالک‘ سمجھا جاتا ہے تاہم حقانی کا تعلق کرلانی شاخ کے زدران قبیلے سے ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
نیتن یاہو کا ایرانی حکومت کے خاتمے پر اصرار، ٹرمپ سے متعدد بار گفتگو کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
عراق: کرکوک میں داعش کے حملوں میں اضافہ، سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کا خدشہ، ماہرین نے خبردار کردیا
20/October/2026 👁️ 54 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان
20/October/2026 👁️ 37 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ایم کیو 9 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 55 بار دیکھا گیا
نوشکی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی، 5 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 3 زخمی
20/October/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
بنوں کے علاقے زروم میں دہشتگردوں کے ٹھکانے پر کارروائی، 5 ہلاک، 7 زخمی
20/October/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15624 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11919 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9273 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7532 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5486 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C