عالمی فوجداری عدالت نے افغان جنگی جرائم کی تحقیقات کی اجازت دے دی
👁️ 92 بار دیکھا گیا
عالمی فوجداری عدالت نے افغان جنگی جرائم کی تحقیقات کی اجازت دے دی
دی ہيگ (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے ایف پی) آئی سی سی نے افغانستان ميں انسانی حقوق کی مبينہ خلاف ورزيوں کی تحقيقات بحال کرنے کا فيصلہ کيا ہے۔ ججوں کے مطابق موجودہ کابل انتظاميہ نے داخلی سطح پر نہ تو ايسی تفتيش کرائی اور نہ ہی کرانے ميں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغانستان ميں انسانی حقوق کی مبينہ خلاف ورزيوں کی تحقيقات کی اجازت دے دی ہے۔ پير اکتيس اکتوبر کو آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ بيان کے مطابق موجودہ کابل انتظاميہ نے داخلی سطح پر تفتيش ميں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، جس کی وجہ سے يہ فيصلہ کيا گيا۔
#ICC judges authorise Prosecution to resume investigation in #Afghanistan. Learn more ⤵ https://t.co/FyqCz1JNe4
— Int'l Criminal Court (@IntlCrimCourt) October 31, 2022
2020ء کے اوائل ميں اس وقت کی کابل انتظاميہ نے ہالينڈ کے شہر دی ہيگ ميں قائم انٹرنيشنل کرمنل کورٹ سے درخواست کی تھی کہ افغانستان ميں انسانی حقوق کی مبينہ پاماليوں کی تحقيقات کچھ مدت کے ليے معطل کر دی جائيں تاکہ کابل حکومت داخلی سطح پر تفتيش کرا سکے۔ گزشتہ برس اگست ميں البتہ امريکی حمايت يافتہ کابل حکومت ختم ہو گئی اور افغانستان پر طالبان کی عمل داری قائم ہو گئی۔
آئی سی سی نے اس ضمن ميں جاری کردہ بيان ميں کہا، ”جج اس نتيجے پر پہنچے ہيں کہ اس وقت افغانستان ميں تحقيقات اس طريقے سے نہيں ہو رہيں، جو کہ عدالت کے تفتيش روکے جانے کے فيصلے کی وجہ بنی۔ افغان اتھارٹياں 26 مارچ 2020ء کو جمع کردہ تحقيقات معطل کرنے کی درخواست کے تناظر ميں داخلی سطح پر مناسب کارروائی ميں کوئی دلچسپی ظاہر نہيں کر رہيں۔‘‘
گزشتہ برس ستمبر ميں استغاثہ نے آئی سی سی کے ججوں سے رجوع کر کے ان سے تحقيقات بحال کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کی درخواست موجودہ کابل انتظاميہ کے سامنے بھی رکھی گئی ليکن ان پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آيا۔ اسی تناظر ميں 31 اکتوبر کو ججوں نے فيصلہ کيا کہ افغانستان کا رد عمل يہ ظاہر کرتا ہے کہ انتظاميہ نے نہ تو ان معاملات کی جانچ پڑتال کی ہے اور نہ ہی ايسا کوئی عمل اس وقت جاری ہے۔ ايسے ميں آئی سی سی نے پراسکيوٹرز کو تحقيقات کا عمل بحال کرنے کا کہہ ديا ہے۔
سن 2020 ميں آئی سی سی کے سابق چيف پراسيکيوٹر فاتو بنسودا نے کہا تھا کہ طالبان کے علاوہ امريکی فورسز اور ديگر ملکوں ميں امريکی سی آئی اے پر بھی انسانی حقوق کی سنگين خلاف ورزيوں کا شبہ ہے۔ البتہ موجودہ چيف پراسيکيوٹر کريم خان نے پچھلے سال امريکہ کو تفتيش کے زمرے سے يہ کہہ کر فہرست سے خارج کر ديا تھا کہ سب سے سنگين جرائم ممکنہ طور پر داعش اور طالبان نے کیے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے پاکستان کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ
18/July/2026 👁️ 259 بار دیکھا گیا
بنوں میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 24 دہشت گرد ہلاک
18/July/2026 👁️ 145 بار دیکھا گیا
ایران پر امریکی حملوں کا ساتواں روز، 38 افراد ہلاک، 400 سے زائد زخمی
18/July/2026 👁️ 121 بار دیکھا گیا
امریکی حملے بند ہونے تک جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
18/July/2026 👁️ 193 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، 8 اہلکار ہلاک، متعدد زخمی
17/July/2026 👁️ 351 بار دیکھا گیا
بنوں میں تین نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
17/July/2026 👁️ 170 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8953 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4794 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3565 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 2856 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2558 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2314 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C