عدلیہ کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے، سپریم کورٹ
👁️ 116 بار دیکھا گیا
عدلیہ کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے، سپریم کورٹ
اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اس نے عدلیہ کے خلاف ایک ’منظم مہم‘ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔
اس میں لکھا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم یعنی مسلمان کی تعریف سے انحراف کیا یا مذہب کے خلاف جرائم سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات ختم کرنے کا کہا ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ نے کسی کو نظرثانی سے نہ پہلے روکا نہ اب روکیں گے۔ ’تنقید کے نام پر، یا اس کی آڑ میں عدلیہ یا ججوں کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے۔۔۔ اس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس ستون کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس پر آئین نے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ڈالی ہے۔‘
سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا تھا؟
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چھ فروری کو ایک درخواست گزار کی جانب سے اپنے خلاف فردِ جرم سے بعض الزامات حذف کروانے اور ضمانت کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ ’آئین نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص پر ایسے کام کے لیے فردِ جرم عائد نہیں کیا جا سکتا جو اس وقت جرم نہیں تھا، جب اس کا ارتکاب کیا گیا۔‘ اس حوالے سے فیصلے میں آئین کی دفعہ 12 (1) کا حوالہ دیا گیا ہے۔
فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ ’درخواست گزار پر چھ دسمبر 2022 کو ضلع چنیوٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق تین الزامات لگائے گئے تھے جو پنجاب قرآن شریف قانون 2011، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور دفعہ 295 بی شامل کے تحت لگائے گئے تھے۔‘
فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’ملزم ممنوعہ کتاب ’تفسیرِ صغیر‘ تقسیم کر رہا تھا۔ ان کے وکیل کے مطابق کسی بھی ممنوعہ کتاب کی تقسیم یا اشاعت کو پنجاب قرآن شریف (ترمیم) قانون کے تحت سنہ 2021 میں جرم بنایا گیا تھا جبکہ ایف آی آر میں الزام ہے کہ درخواست گزار نے اس کا ارتکاب 2019 میں کیا تھا۔‘
فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے وکیل کے اس دعوے کی تصدیق کی گئی ہے کہ مذکورہ جرم قانون میں 2021 میں شامل کیا گیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ سنہ 2019 میں ممنوعہ کتاب کی تقسیم جرم نہیں تھی اس لیے درخواست گزار پر یہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
فیصلے میں درخواست پر ایف آئی آر میں عائد کی گئی دیگر دفعات 298 سی اور 295 بی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ’وکیل کا کہنا تھا کہ نہ تو ایف آئی آر میں اور نہ ہی پولیس کی تفتیش میں جمع کی گئی پولیس رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے کسی ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے جس سے مذکورہ جرائم تشکیل پاتے ہوں۔‘
’وکیل کی جانب سے ایف آئی آر پڑھا، لیکن اس میں ایسا کچھ ذکر نہیں تھا جس سے دفعات 295 بی اور 298 سی کے تحت جرائم تشکیل پاتے اور چالان بھی اس بارے میں خاموش ہے۔‘
فیصلے کے مطابق ’اس بنا پر دفعات 295 بی اور 298 سی ایف آئی آر سے نکال دی جاتی ہیں۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
یمن: ریاستی سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ، داعش کا ترجمان ہلاک، خودکش جیکٹ و دیگر سامان برآمد
01/September/2026 👁️ 39 بار دیکھا گیا
غزہ : اسرائیلی کارروائی، حماس کا اہم عہدیدار گرفتار، فضائی حملوں میں متعدد افراد ہلاک
01/September/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
لکی مروت: شاہ حسن خیل میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک
01/September/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
پشاور میں پولیس موبائل پر حملہ، 3 افراد ہلاک، 2 ایس ایچ اوز زخمی
01/September/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
چاغی اور پشین میں سیکیورٹی کارروائیاں، 21 دہشتگرد اور 6 اہلکار ہلاک
01/September/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، 2 بچے زخمی
01/September/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26263 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15508 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11791 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9088 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7375 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5055 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C