عدلیہ کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے، سپریم کورٹ
👁️ 100 بار دیکھا گیا
عدلیہ کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے، سپریم کورٹ
اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اس نے عدلیہ کے خلاف ایک ’منظم مہم‘ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔
اس میں لکھا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم یعنی مسلمان کی تعریف سے انحراف کیا یا مذہب کے خلاف جرائم سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات ختم کرنے کا کہا ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ نے کسی کو نظرثانی سے نہ پہلے روکا نہ اب روکیں گے۔ ’تنقید کے نام پر، یا اس کی آڑ میں عدلیہ یا ججوں کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے۔۔۔ اس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس ستون کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس پر آئین نے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ڈالی ہے۔‘
سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا تھا؟
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چھ فروری کو ایک درخواست گزار کی جانب سے اپنے خلاف فردِ جرم سے بعض الزامات حذف کروانے اور ضمانت کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ ’آئین نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص پر ایسے کام کے لیے فردِ جرم عائد نہیں کیا جا سکتا جو اس وقت جرم نہیں تھا، جب اس کا ارتکاب کیا گیا۔‘ اس حوالے سے فیصلے میں آئین کی دفعہ 12 (1) کا حوالہ دیا گیا ہے۔
فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ ’درخواست گزار پر چھ دسمبر 2022 کو ضلع چنیوٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق تین الزامات لگائے گئے تھے جو پنجاب قرآن شریف قانون 2011، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور دفعہ 295 بی شامل کے تحت لگائے گئے تھے۔‘
فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’ملزم ممنوعہ کتاب ’تفسیرِ صغیر‘ تقسیم کر رہا تھا۔ ان کے وکیل کے مطابق کسی بھی ممنوعہ کتاب کی تقسیم یا اشاعت کو پنجاب قرآن شریف (ترمیم) قانون کے تحت سنہ 2021 میں جرم بنایا گیا تھا جبکہ ایف آی آر میں الزام ہے کہ درخواست گزار نے اس کا ارتکاب 2019 میں کیا تھا۔‘
فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے وکیل کے اس دعوے کی تصدیق کی گئی ہے کہ مذکورہ جرم قانون میں 2021 میں شامل کیا گیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ سنہ 2019 میں ممنوعہ کتاب کی تقسیم جرم نہیں تھی اس لیے درخواست گزار پر یہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
فیصلے میں درخواست پر ایف آئی آر میں عائد کی گئی دیگر دفعات 298 سی اور 295 بی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ’وکیل کا کہنا تھا کہ نہ تو ایف آئی آر میں اور نہ ہی پولیس کی تفتیش میں جمع کی گئی پولیس رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے کسی ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے جس سے مذکورہ جرائم تشکیل پاتے ہوں۔‘
’وکیل کی جانب سے ایف آئی آر پڑھا، لیکن اس میں ایسا کچھ ذکر نہیں تھا جس سے دفعات 295 بی اور 298 سی کے تحت جرائم تشکیل پاتے اور چالان بھی اس بارے میں خاموش ہے۔‘
فیصلے کے مطابق ’اس بنا پر دفعات 295 بی اور 298 سی ایف آئی آر سے نکال دی جاتی ہیں۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا
19/June/2026 👁️ 200 بار دیکھا گیا
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت دے دی
19/June/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
باجوڑ: دہشت گردوں نے گرلز ہائی اسکول کو بارودی مواد سے اڑا دیا
19/June/2026 👁️ 126 بار دیکھا گیا
ایران نے معاہدہ توڑا تو فوجی کارروائی اور بحری ناکہ بندی دوبارہ ہوگی، امریکی وزیر دفاع
19/June/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں پولیس چیک پوسٹ پر کواڈ کاپٹر حملہ، 3 اہلکار زخمی
19/June/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
لبنان میں اسرائیلی کارروائی میں تین افراد ہلاک
18/June/2026 👁️ 146 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8838 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4582 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3289 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2461 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2103 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1908 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C