01/October/2025

غزہ امن پلان: پاکستان کی حمایت، اسرائیل اور فلسطین کیلئے دو ریاستی حل لازمی، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

👁️ 272 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ امن پلان: پاکستان کی حمایت، اسرائیل اور فلسطین کیلئے دو ریاستی حل لازمی، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

غزہ امن پلان: پاکستان کی حمایت، اسرائیل اور فلسطین کیلئے دو ریاستی حل لازمی، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل پر عملدرآمد لازمی ہے۔

 

گذشتہ روز واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ میں جنگ بندی اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل قیام امن کے لیے مجوزہ منصوبہ پیش کیا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس منصوبے کی ابتدا سے حمایت کر رہے ہیں۔

 

پاکستان نے فلسطین سے متعلق مجوزہ امن معاہدے پر آٹھ اسلامی ممالک کے بیان کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو پریس کانفرنس میں کہا کہ اس امن منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فوج تعینات ہوگی اور انہیں یقین ہے کہ حماس اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرے گی۔ 

 

انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا نے فلسطین میں 20,000 فوجی تعینات کرنے کی پیشکش کی ہے اور پاکستان کی قیادت بھی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

 

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے آٹھ مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات کا مقصد غزہ میں بہتے خون کو روکنا اور امن قائم کرنا تھا۔ اس سے قبل ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے میٹنگ میں غزہ میں فوری جنگ بندی، معصوم شہریوں کے تحفظ اور پٹی کی تباہ شدہ علاقوں میں امداد پہنچانے پر غور کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد غزہ کے شہریوں کی علاقہ بدری کو روکنا، پہلے ہی منتقل ہونے والے شہریوں کو واپس لانا، تباہ شدہ پٹی کی بحالی اور ویسٹ بینک میں اسرائیل کی کارروائیوں کا سدباب کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں فلسطین کی بھرپور نمائندگی کی، جس کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہوئی۔

 

اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان کے علاوہ، چانسلر آف آسٹریا، کویت کے ولی عہد، سری لنکا کے صدر، بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر، اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس اور عالمی بینک کے صدر سے بھی ملاقاتیں کیں، جن کے بارے میں اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ ملاقاتیں مثبت ماحول میں ہوئیں۔

 

پاکستان کا تاریخی موقف ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے حقوق دیے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ دفترِ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان ایک خودمختار، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا اور اس کی سرحدیں جون 1967 سے قبل کی ہونی چاہئیں۔

 

سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ دو ریاستی حل کا مطلب فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنا ہے، لیکن یہ ہرگز پاکستان کے لیے اسرائیل کی تسلیم کا مطلب نہیں۔ تاہم قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر قندیل عباس نے موقف ظاہر کیا کہ دو ریاستی حل کے بعد بالواسطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنا ممکن ہے، مگر عوامی اور مذہبی حلقوں میں اس پر شدید اختلاف ہے۔

 

پاکستانی عوام اور بعض سیاسی رہنما، جیسے سابق سفیر عبدالباسط، سینیٹر افنان اللہ خان اور سابق رکنِ قومی اسمبلی مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سوشل میڈیا پر اس منصوبے پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر وزیراعظم کا یہ اقدام درست نہیں اور منصوبے میں اسرائیلی وزیراعظم کو جنگی جرائم کی کلین چِٹ دی گئی ہے۔

ادھر سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی تحفظات ظاہر کر رہی ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستانی قوم کی مرضی کے بغیر کسی شخصیت کا ڈونلڈ ٹرمپ کو رضامندی دینا قابل قبول نہیں۔

 

پاکستان نے اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے دو ریاستی حل پر زور برقرار رکھا ہے، جس کے تحت فلسطین کو بھی آزاد ریاست تسلیم کیا جائے گا، اور اسرائیل کی باقاعدہ تسلیم کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کی شرط ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C