17/September/2025

غزہ کی جنگ: اسرائیل کے خلاف یورپی یونین کی نئی پابندیاں

👁️ 199 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ کی جنگ: اسرائیل کے خلاف یورپی یونین کی نئی پابندیاں

غزہ کی جنگ: اسرائیل کے خلاف یورپی یونین کی نئی پابندیاں

برسلز (ڈیلی اردو/روئٹرز/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) یورپی یونین نے غزہ کی جنگ کے باعث اسرائیل کے ساتھ تجارت اور انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزراء پر پابندیاں تجویز کر دیں۔ غزہ سٹی میں زمینی فوجی آپریشن جاری ہے جبکہ شہر سے انخلا کا راستہ 48 گھنٹے کے لیے کھول دیا گیا۔

 

یورپی یونین نے غزہ کی جنگ کے باعث اسرائیل کے ساتھ تجارت اور انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزراء پر پابندیاں تجویز کر دیں۔ غزہ سٹی میں زمینی فوجی آپریشن جاری ہے جبکہ شہر سے انخلا کا راستہ 48 گھنٹے کے لیے کھول دیا گیا۔

 

یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران عہدیدار کایا کالاس نے بدھ کے روز بتایا کہ انہوں نے اس بلاک کو اسرائیل کے خلاف غزہ پٹی کی جنگ کی وجہ سے ایسی پابندیاں باقاعدہ طور پر تجویز کر دی ہیں، جن کے تحت اسرائیل کی یورپی یونین کے ساتھ تجارت کو محدود کر دیا جائے گا اور ساتھ ہی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی دائیں بازو کے دو وزراء پر بھی پابندیاں لگا دی جائیں گی۔

 

کایا کالاس نے کہا، ’’میں یہ واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ ان مجوزہ پابندیوں کا مقصد اسرائیل کو سزا دینا نہیں، بلکہ ان کا مقصد غزہ پٹی کے جنگ سے تباہ شدہ علاقے میں بحرانی انسانی صورت حال میں بہتری لانا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اس جنگ کو ختم ہونا چاہیے۔ انسانوں کے مصائب ختم ہونا چاہییں، اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جانا چاہیے۔‘‘

 

برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ بات غیر یقینی ہے کہ آیا 27 رکنی یورپی یونین میں کایا کالاس کی پیش کردہ تجویز پر رکن ممالک کی اکثریت میں اتفاق رائے دیکھنے میں آئے گا اور وہ اسرائیل کے خلاف ان پابندیوں کو نافذ کرنے کی تائید کر دیں گے۔

 

اس سے پہلے کل منگل 16 ستمبر کے روز اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے کہا تھا کہ یورپی یونین ممکنہ طور پر اسرائیل کو باہمی تجارت میں حاصل مخصوص مراعات معطل کرنے کا سوچ رہی ہے، جو ایک ’’غیر متناسب‘‘ اور آج تک کیا جانے والا ’’بےنظیر‘‘ اقدام ہو گا۔

 

اسرائیل کی طرف سے حال ہی میں اعلان کیا گیا تھا کہ وہ غزہ پٹی کے سب سے بڑے شہری مرکز غزہ سٹی کو پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔ اس سلسلے میں پہلے غزہ سٹی پر شدید فضائی اور زمینی حملے کیے جاتے رہے اور اب وہاں ایک بڑا زمینی فوجی آپریشن بھی شروع کیا جا چکا ہے۔

 

قبل ازیں اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی سے لاکھوں فلسطینیوں کو نکل جانے کا حکم بھی دے دیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اس شہر میں 150 سے زائد اہداف پر حملے کیے، جن میں حماس کے ہتھیاروں کی ایک ذخیرہ گاہ بھی شامل تھی۔

 

غزہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق غزہ سٹی میں گراؤنڈ آپریشن جاری ہے اور اسی دوران اسرائیلی فوج نے اس شہر سے رخصتی کے لیے استعمال ہونے والا راستہ 48 گھنٹے کے لیے کھول دیا ہے تاکہ شہر چھوڑ کر جانے والے فلسطینی باشندے وہاں سے نکل سکیں۔

 

 

یورپی یونین پر پچھلے کچھ عرصے سے اس وجہ سے خاص طور پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ دڈلتے ہوئے غزہ پٹی کی سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل میں دہشت گردانہ حملے کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کو رکوانے میں اب تک ناکام رہی ہے۔

 

حماس کے اسرائیل میں اس حملے میں 1200 سے زائد افراد مارے گئے تھے جبکہ فلسطینی جنگجو واپس غزہ جاتے ہوئے تقریباﹰ 250 افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔

 

ان یرغمالیوں میں سے زیادہ تر اب تک رہا کیے جا چکے ہیں تاہم درجنوں اب بھی غزہ پٹی میں حماس کے قبضے میں ہیں۔ ان میں سے بھی کئی کے بارے میں اسرائیلی حکومت اور فوج کا اندازہ ہے کہ وہ مارے جا چکے ہیں۔

 

دوسری طرف غزہ پٹی کی حماس کے زیر انتطام کام کرنے والی وزارت صحت اور امدادی تنظیموں کے مطابق اس جنگ میں اب تک تقریباﹰ 64 ہزار فلسطینی بھی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C