15/October/2025

فلسطینی ریاست کا قیام پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا: شہباز شریف

👁️ 296 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
فلسطینی ریاست کا قیام پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا: شہباز شریف

فلسطینی ریاست کا قیام پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا: شہباز شریف

قاہرہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا۔

 

شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی سے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری ایک پیغام میں وزیراعظم نے غزہ کے معاملے پر ہونے والی اس بڑی پیش رفت کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سب سے اہم ترجیح غزہ میں نسل کشی کو فوری طور پر روکنا تھا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ہمارا شکریہ اس بات کی بنا پر ہے کہ وہ اس نسل کشی کو روکیں گے اور اس وعدے کو پورا کریں گے۔

’ہم امن کے لیے صدر ٹرمپ کے منفرد کردار کی تعریف کرتے رہیں گے۔‘

 

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کی آزادی اور خوشحالی پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

 

’1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو پاکستان کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا۔‘

اسرائیل اور حماس دونوں ہی تقریب میں شریک نہ ہوئے۔

 

اسرائیل کی جانب سے بھی تقریب میں شرکت نہیں کی گئی حالانکہ اسرائیلی حکومت نے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے معاہدے کی منظوری تو دے دی لیکن اسرائیل کی طرف سے سیاسی سطح پر شرم الشیخ میں تقریب سے دوری اختیار کی گئی۔

 

اس صورتحال نے قیام امن کی کوششوں پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگرچہ قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ مکمل ہو چکا ہے اور عالمی برادری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے لیکن دونوں مرکزی فریقوں کی غیر موجودگی سے معاہدے کی پائیداری سے متعلق خدشات جنم لے رہے ہیں۔

 

تاہم صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ ’’برقرار رہے گا‘‘ اور خطے میں امن و استحکام کی بنیاد بنے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل اور حماس براہ راست اور مکمل طور پر اس عمل میں شامل نہیں ہوتے،امن کی راہ ہموار ہونا مشکل رہے گا۔

 

اسرائیل کی جانب سے بھی تقریب میں شرکت نہیں کی گئی حالانکہ اسرائیلی حکومت نے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے معاہدے کی منظوری تو دے دی لیکن اسرائیل کی طرف سے سیاسی سطح پر شرم الشیخ میں تقریب سے دوری اختیار کی گئی۔

 

اس صورتحال نے قیام امن کی کوششوں پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگرچہ قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ مکمل ہو چکا ہے اور عالمی برادری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے لیکن دونوں مرکزی فریقوں کی غیر موجودگی سے معاہدے کی پائیداری سے متعلق خدشات جنم لے رہے ہیں۔

 

تاہم صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ ’’برقرار رہے گا‘‘ اور خطے میں امن و استحکام کی بنیاد بنے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل اور حماس براہ راست اور مکمل طور پر اس عمل میں شامل نہیں ہوتے، امن کی راہ ہموار ہونا مشکل رہے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C