23/June/2024

لوئر دیر میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں

👁️ 39 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لوئر دیر میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں

لوئر دیر میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں

پشاور (ڈیلی اردو) صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے میدان کے علاقے میں پاک افغان سرحد پر متعدد مقامات پر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے مبینہ طور پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں پر حملہ کردیا، اس واقعے میں دونوں جانب سے ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقامی باشندوں اور سرکاری ذرائع نے بتایا کہ افغان سرحد سے شاہی سرحدی علاقے لاموٹائی ٹاپ، سوری پاؤ اور سفاری جنگل میں دہشت گردوں کی دراندازی کی اطلاعات ہیں۔

تاہم، فوج کے میڈیا ونگ، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی طرف سے ان رپورٹس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مبینہ دراندازی کی اطلاع ملنے پر پیرا ملٹری فورس ایف سی کے دستوں نے کیپٹن یاسین، کیپٹن اسفندیار اور صوبیدار حمزہ کی قیادت میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے پیش قدمی کی۔

دہشت گردوں نے مبینہ طور پر دستوں پر حملہ کیا، جنہوں نے جوابی کارروائی کی، اس طرح دونوں طرف سے جانی نقصان کا خدشہ ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پانچ حملہ آور مارے گئے ہیں تاہم انہوں اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں چار اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے مبینہ دہشت گردوں کو تین مختلف مقامات پر گھیرے میں لے لیا، بعد ازاں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا، مقامی لوگوں کے مطابق مشتبہ مقامات پر گولے بھی فائر کیے گئے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی نے فوج کو ان علاقوں میں باقاعدہ فوجی دستے بھیجنے پر مجبور کیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق، کالعدم ٹی ٹی پی کے ارکان، جن کا تعلق لوئر دیر اور سوات کے اضلاع سے ہے، اکثر لوئر دیر میں داخل ہونے اور عید کے موقع پر سوات کی طرف جانے کے لیے شاہی اور بن شاہی راستے کا استعمال کرتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C