27/December/2025

لکی مروت آپریشن میں اہم کمانڈر مولوی نصرت اللہ وزیر سمیت 7 طالبان ہلاک

👁️ 259 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لکی مروت آپریشن میں اہم کمانڈر مولوی نصرت اللہ وزیر سمیت 7 طالبان ہلاک

لکی مروت آپریشن میں اہم کمانڈر مولوی نصرت اللہ وزیر سمیت 7 طالبان ہلاک

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے تختی خیل میں 25 دسمبر کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، پولیس اور مقامی عوامی امن کمیٹی (گڈ طالبان) نے دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن میں حصہ لیا، جس کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر مولوی نصرت اللہ وزیر اور دیگر 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

 

پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی تاکہ علاقے میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

 

کارروائی کی تفصیلات

 

ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بنوں سجاد خان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) نذیر خان کی نگرانی میں کی گئی اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو گھیرے میں لے کر شدید فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ پولیس کے مطابق تمام ہلاک دہشت گرد جدید اور بھاری ہتھیاروں سے مسلح تھے۔

 

ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان  کا کمانڈر نصرت اللہ بھی شامل ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ نصرت اللہ پر پولیس نے 28 سے زائد سنگین مقدمات درج کیے تھے اور اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر تھی۔ 

 

حکام کے مطابق وہ مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا اور سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔

 

سرچ آپریشن کے دوران چھ دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ متعدد دہشت گرد زخمی ہوئے اور ان کے ممکنہ طور پر قریبی علاقوں میں فرار ہونے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

 

شہری نقصان اور ڈرون حملہ

 

پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے ڈرون کے ذریعے شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا، جس سے متعدد عام شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

 

ٹی ٹی پی کی تصدیق

 

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اپنے سوشل میڈیا چینل پر اس کارروائی کی تصدیق کی۔ ہلاک ہونے والے مولوی نصرت اللہ وزیر کو بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کا نو منتخب کمانڈر برائے دعوت و ارشاد مقرر کیا گیا تھا۔

 

مقامی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے پانچ افغان سہولت کار بھی گرفتار کیے گئے، اور دہشت گردوں کے دو مراکز اور چھ گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔

 

حکام کا موقف

 

انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کامیاب آپریشن پر بنوں ریجن پولیس اور سی ٹی ڈی کی تعریف کی اور کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں امن قائم رکھنے کے لیے کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

پولیس حکام نے مزید کہا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور سیکیورٹی فورسز کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے چوکس ہیں۔

 

جنوبی اضلاع میں بڑھتی ہوئی بدامنی، مسلح گروہوں کا زور

 

پشاور (ڈیلی اردو) – خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پرتشدد واقعات اور بدامنی معمول بنتے جا رہے ہیں، جن میں کرک، بنوں، لکی مروت، شمالی اور جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور کالاچی شامل ہیں۔

 

مقامی سطح پر خدشات اس وقت بڑھنے لگے جب مسلح افراد کے مراکز قائم ہونے لگے اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آئیں جن میں یہ افراد مرکزی شاہراہوں پر چیکنگ کرتے نظر آئے۔

 

اس کے بعد سرکاری ملازمین کے اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا اور ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں پر متعدد حملے کیے گئے، جبکہ تھانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ صوبے کے محکمہ داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ چھٹیوں یا سفر کے دوران اپنے کارڈ ہمراہ رکھیں اور احتیاط کریں۔

 

سکیورٹی فورسز کی ہلاکتیں اور متاثرین

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چھ ماہ میں خیبرپختونخوا میں 200سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکار مختلف واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں فوج، پولیس اور ایف سی کے اہلکار شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔

 

مقامی سطح پر صورتحال اور “گڈ طالبان”

 

مقامی رہائشیوں کے مطابق علاقے میں ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ کچھ سابق طالبان، جنھوں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور افغانستان سے واپس آئے، اب مقامی سطح پر لوگوں کے تصفیے کرانے کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔

 

مقامی رہنما دولت خان اور دلیر خان نے کہا کہ عوام میں یہ تاثر موجود ہے کہ یہ افراد “گڈ طالبان” یعنی اچھے طالبان ہیں، کیونکہ ماضی میں وہ طالبان کا حصہ تھے لیکن حکومت پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ تاہم، مقامی سطح پر یہ افراد لوگوں کو ڈرانا دھمکانا بھی شروع کر چکے ہیں۔

 

فرضی نام دلیر خان نے مزید کہا، ’’برے طالبان شہری آبادیوں کے قریب نہیں رہتے بلکہ خفیہ مقامات سے کارروائی کرتے ہیں اور فرار ہو جاتے ہیں۔‘‘

 

تربیت یافتہ مسلح گروہ

 

خیبرپختونخوا انسداد دہشت گردی کی محکمہ کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بنوں شہر کے علاقوں میں کالعدم تنظیم سے وابستہ تربیت یافتہ مسلح شدت پسند اپنے مرکز بنا کر لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں، بھتے وصول کرتے ہیں اور نوجوانوں کو شرپسندی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ یہ افراد علاقے میں کالے شیشے والی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، جس سے خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C