01/July/2024

لکی مروت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، تین بھٹہ مزدور ہلاک

👁️ 39 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لکی مروت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، تین بھٹہ مزدور ہلاک

لکی مروت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، تین بھٹہ مزدور ہلاک

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں غزنی خیل کے علاقے میں بھٹہ خشت پر کام کرنے والے تین مزدوروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں فاروق، نقیب اللہ اور صالح خان شامل ہیں اور لواحقین نے انڈس ہائی وے پر تاجہ زئی کے مقام پر احتجاج کیا ہے۔

یہ واقعہ آج صبح قریب چار بجے غزنی خیل کے قریب گورکہ شاہ حسین کے علاقے میں ہوا۔

پولیس کے مطابق تینوں افراد علاقے میں بھٹہ خشت پر کام کرتے تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں غم کی فضا ہے۔ حملہ آورووں کے بارے میں اب تک معلوم نہیں ہو سکا۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ علاقے میں اچانک بہت زیادہ روشنی ہوئی اور ایسا لگا کہ اچانک دن ہوگیا ہو۔ پھر اس کے بعد فائرنگ ہوئی۔ روشنی صرف اس مقام پر ہوئی جہاں مزدور بھٹہ خشت پر کام کے لیے جا رہے تھے۔

پولیس حکام نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹارچ لائٹ کے علاوہ تین گاڑیوں کی لائٹس بھی دیکھی گئی ہیں جو واقعے کے بعد غزنی خیل کی جانب چلی گئیں۔

اس واقعے کے بعد اہل علاقہ نے انڈس ہائی وے پر غزنی خیل کے قریب تاجہ زئی کے مقام پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں پُرتشدد واقعات

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور قریبی قبائلی علاقوں میں بے یقینی کی صورتحال ہے جہاں تشدد کے واقعات معمول سے ہو رہے ہیں۔

جبکہ کچھ علاقوں سے مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز بھی موجود ہیں جو مسلح شدت پسندوں کے خلاف انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتی ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیوں کے بارے میں ان دنوں سرکاری سطح پر بیان کم ہی جاری کیا جاتا ہے۔

مقامی سطح پر عام شہری بتاتے ہیں کے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور بعض مقامات سے کارروائیوں کی اطلاعات بھی موصول ہوتی ہیں۔

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان علاقوں میں مسلح شدت پسندوں کے علاوہ جرائم پیشہ افراد بھی متحرک ہیں جو راستوں پر گاڑیوں کو لوٹنے اور خوف کی فضا پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں۔

لکی مروت میں 9 جون کو نامعلوم افراد کی جانب سے سکیورٹی فوسرز کی گاڑی کے قریب دھماکے ہوئے تھے جس میں فوج کے ایک کپتان سمیت سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے بعد 11 جون کو سکیورٹی فورسز نے لکی مروت کے مضافات میں ایک آپریشن میں 11 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

لکی مروت سے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پہاڑ پور تک گذشتہ دنوں میں ڈرون پروازوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی تھیں جبکہ لکی مروت کے علاقے سر درگا میں چند روز پہلے ایک ڈرون حملے میں شدت پسند گروہ کے تین افراد کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کی گئی تھی۔

لکی مروت میں اس سال اپریل کے مہینے میں گرینڈ امن جرگہ منعقد کیا گیا تھا جس میں مقررین نے مجوزہ فوجی آپریشن کو مسترد کیا تھا۔

اس جرگے میں کہا گیا تھا کہ ان کی اطلاع کے مطابق اس علاقے میں بڑے فوجی آپریشن کا ارادہ ہے لیکن وہ اس آپریشن کو مسترد کرتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C