18/September/2025

مقدس مقامات کی زیارت: عراق نے پاکستانی زائرین کے ویزے کے قواعد سخت کر دیے

👁️ 340 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مقدس مقامات کی زیارت: عراق نے پاکستانی زائرین کے ویزے کے قواعد سخت کر دیے

مقدس مقامات کی زیارت: عراق نے پاکستانی زائرین کے ویزے کے قواعد سخت کر دیے

واشنگٹن (ش ح ط) عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کے خواہشمند پاکستانی زائرین کے لیے عراقی حکام نے نئی پالیسی جاری کر دی ہے، جس کے تحت 50 سال سے کم عمر مرد اکیلے زیارت ویزہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔

 

وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق، نئی ہدایات کے تحت 50 سال سے کم عمر مرد صرف اپنے خاندان کے ہمراہ درخواست دینے کی صورت میں زیارت ویزہ حاصل کر سکیں گے۔

 

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بتایا تھا کہ زیارات مقدسہ کے لیے روایتی سالار سسٹم ختم کر دیا گیا ہے، کیونکہ تقریباً 40 ہزار پاکستانی زائرین عراق، شام اور ایران میں جا کر وہیں رک گئے یا غائب ہو گئے، جن کا کوئی ریکارڈ حکومتی اداروں کے پاس موجود نہیں۔

 

وزارت داخلہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ انسانی سمگلروں نے یورپ جانے کے لیے یہ روٹ بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ یورپ جانے کے خواہشمند افراد زائرین کے روپ میں ایران، عراق اور شام کا ویزا ٹریول ایجنٹس سے حاصل کرتے ہیں، اور وہاں قانونی طور پر داخل ہوتے ہیں۔ بعد میں انسانی سمگلروں کے گروہ ان سے رابطہ کر کے یورپی ممالک پہنچانے کے لیے تیار کرتے ہیں۔

 

ان اہلکاروں کے مطابق، لیبیا اور یونان میں کشتی حادثات، جن میں درجنوں پاکستانی ہلاک ہوئے، کی تحقیقات سے بھی یہ بات سامنے آئی کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ یورپ جانے کے لیے افراد کو زائرین کے روپ میں ایران، عراق اور شام لے جاتے ہیں، اور وہاں سے ڈنکی لگا کر ترکی، یونان اور یورپی ممالک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

واضح رہے کہ ان تینوں ملکوں کی حکومتوں نے پاکستان سے متعدد بار شکایات کی تھیں کہ زیارت کے لیے آنے والے سینکڑوں پاکستانی ان ملکوں میں غائب جاتے ہیں۔۔

 

مزید برآں، داعش اور دیگر شیعہ و سنی عسکریت پسند گروہ، بشمول 'فاطمیون' اور 'زینبیون' کے جنگجو بھی ان ملکوں میں داخل ہوئے۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ جنگجو عراق میں گئے، کچھ پاسدارانِ انقلاب فورسز کے ساتھ ایران چلے گئے، جبکہ کچھ شام سے فرار ہو کر حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ لبنان پہنچ گئے اور کچھ فلسطین میں حماس کے ساتھ شامل ہو گئے۔

 

گذشتہ 27 جولائی کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا تھا کہ اس سال زائرین کو زمینی راستے سے ایران و عراق جانے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم فضائی سفر کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزارت خارجہ، بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی باہمی مشاورت کے بعد عوام کے تحفظ اور قومی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا۔

 

دوسری جانب، مجلس وحدت مسلمین نے زمینی راستے سے زیارت کے پابندی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کی زیارت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہم اپنے عقیدتی فریضے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ 

 

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ حکومت کو ایران میں زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کیلیے پہلے ہی میٹنگ کی گئی تھی اور زائرین کا مکمل ڈیٹا موجود ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ زمینی راستے سے زیارت پر پابندی سے اربوں روپے کا معاشی نقصان ہو رہا ہے، جبکہ حکومت کے لیے زائرین کے سفر سے مالی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C