ممبئی حملہ کیس: امریکا کا پاکستانی نژاد تاجر طہور رانا کو بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ
👁️ 170 بار دیکھا گیا
ممبئی حملہ کیس: امریکا کا پاکستانی نژاد تاجر طہور رانا کو بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ
واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی) امریکہ کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد کینیڈین تاجر طہور رانا کی شکاگو کی عدالت کی جانب سے بھارت حوالگی کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔
مئی 2023 میں شکاگو کی ایک عدالت نے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں انڈین حکومت کو مطلوب تاجر طہور رانا کو بھارت کے حوالے کرنے کی منظوری دی تھی۔
تاہم عدالت نے کہا تھا کہ رانا اس وقت تک امریکہ کی حراست میں ہی رہیں گے جب تک امریکی وزارتِ خارجہ اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی۔
اس موقع پر مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممبئی حملہ کیس میں سرکاری وکیل اجوال نکم نے کہا ہے کہ ’یہ انڈیا کے لیے ایک بڑی فتح ہے کیونکہ طہور رانا وہ شخص ہے جسے ممبئی حملوں کے پیچھے مجرمانہ سازش کے حوالے سے متعدد تفصیلات معلوم ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پاکستان کی اس حملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آئیں گی۔
نومبر 2008 میں انڈیا کے شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان کے لیے عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔
2011 میں شکاگو کی وفاقی عدالت کے ججوں نے طہور رانا کو لشکر طیبہ کی مدد کرنے کا مجرم قرار دیا تھا لیکن انھیں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی اور ان میں براہ راست ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔
ان جرائم پر انھیں 2013 میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 2020 میں طہور رانا کو کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہمدردی کی بنیاد پر امریکی جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن انڈیا کی جانب سے حوالگی کی درخواست کے بعد انھیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
طہور رانا نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔
انڈین حکام نے طہور رانا پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے بچپن کے دوست ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے ساتھ مل کر سازش کی اور پاکستانی عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کی مدد کی۔
اس کیس میں استغاثہ نے کہا کہ 2006 میں رانا نے ہیڈلی کو ممبئی میں شکاگو میں واقع اپنی امیگریشن سروس فرم کا دفتر کھولنے کی اجازت دی تھی، جسے ہیڈلی نے 2008 کے حملے کے لیے مقامات کی تلاش کے لیے کور کے طور پر استعمال کیا تھا۔
رانا پر یہ بھی الزام تھا کہ اس نے ہیڈلی کو اپنی فرم کے نمائندے کے طور پر پیش کرنے کی اجازت دی تاکہ اشتہارات کے لیے جگہ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کرکے اخبارات کے دفاتر تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکہ میں 35 سال قید کی سزا کاٹنے والے ہیڈلی نے 2011 میں طہور رانا کے خلاف گواہی دی تھی۔ رانا کی دفاعی ٹیم نے اس وقت کہا تھا کہ ان کے پرانے دوست ہیڈلی نے اس انھیں استعمال کیا اور گمراہ کیا۔
ممبئی حملوں کے مقدمے کے سپیشل پبلک پراسیکیوٹر اجول نکم نے انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے طہور رانا کی حوالگی کے فیصلے کو ایک ‘اہم پیش رفت’ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ ‘امریکی عدالت کا طہور رانا کی حوالگی کا حکم انڈیا کے لیے بڑی فتح ہے۔ میری معلومات کے مطابق ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ امریکی حکومت نے انڈین تحقیقاتی ایجنسی کے شواہد پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے’۔
انھوں نے مزید کہا کہ ‘میرے خیال میں طہور رانا کی حوالگی کا یہ حکم مجرمانہ سازش کا دروازہ پوری طرح سے کھولنے میں کئی طریقوں سے ہماری مدد کرے گا۔’
طہوررانا کون ہیں اور انھیں کن جرائم میں سزا ہوئی؟
59 سالہ طہور حسین رانا کی پرورش پاکستان میں ہوئی اور انھوں نے میڈیکل کی ڈگری لینے کے بعد پاکستانی فوج کی میڈیکل کور میں شمولیت اختیار کی۔
وہ اور ان کی اہلیہ، جو خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں، 2001 میں امیگریشن لینے کے بعد کینیڈا کے شہری بن گئے تھے۔
سنہ 2009 میں گرفتاری سے قبل رانا شکاگو میں رہتے تھے اور امیگریشن اور ٹریول ایجنسی سمیت کئی کاروبار چلاتے تھے۔
طہور رانا پر 12 الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں امریکی شہریوں کو قتل کرنے میں مدد کرنا بھی شامل تھا۔
ان پر ہیڈلی کو کور فراہم کرنے اور اپنے سابق دوست اور ’میجر اقبال‘ نامی شخص کے درمیان پیغامات بھیجنے کا بھی الزام ہے، جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی کا حصہ ہیں۔
طہور رانا کو لشکر طیبہ کو مادی مدد فراہم کرنے اور ڈنمارک کے ایک اخبار کے خلاف ناکام سازش میں کردار ادا کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا لیکن پاکستانی نژاد کینیڈین شہری کو ممبئی حملوں میں براہ راست ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا، جس میں چھ امریکیوں سمیت 160 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
چاغی میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک
17/October/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
ایران نے سعودی عرب پر حوثی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام مسترد کردیا، ریاض اور حوثیوں میں ثالثی کی پیشکش
17/October/2026 👁️ 117 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے، ایران کی ناکہ بندی برقرار ہے، امریکی فوج کا دعویٰ
17/October/2026 👁️ 100 بار دیکھا گیا
شمالی کوریا کا مصنوعی ذہانت سے لیس جدید تارپیڈو کا تجربہ کامیاب ہونے کا دعویٰ
17/October/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
حوثی باغیوں کے خلاف اسرائیلی مدد لینے کا سعودی عرب کو ٹرمپ کا مشورہ
17/October/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
اورکزئی میں پولیس اور سکاؤٹس کی مشترکہ کارروائی، 10 دہشتگرد ہلاک
16/October/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26378 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15615 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11909 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9257 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7517 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5460 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C