20/August/2025

مودی اور وانگ ژی ملاقات: سرحدی فوجوں کی تعداد میں کمی پر تبادلہ خیال

👁️ 366 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مودی اور وانگ ژی ملاقات: سرحدی فوجوں کی تعداد میں کمی پر تبادلہ خیال

مودی اور وانگ ژی ملاقات: سرحدی فوجوں کی تعداد میں کمی پر تبادلہ خیال

نئی دہلی (ڈیلی اردو/اے پی/روئٹرز/اے ایف پی) چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی منگل کو نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کر رہے ہیں، جسے جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

وانگ ژی پیر کو بھارت پہنچے اور آج وزیر اعظم مودی کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ ملاقات میں سرحد پر فوجیوں کی تعداد میں کمی اور کچھ تجارتی سرگرمیوں کی بحالی پر تبادلہ خیال ہوگا۔

 

پیر کو وانگ ژی نے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر سے ملاقات میں کہا کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو مخالف یا خطرے کے طور پر نہیں بلکہ شراکت دار اور مواقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان ملاقاتوں کو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی میں کمی کی علامت بتایا جا رہا ہے۔

 

یہ تعلقات کی بحالی کی کوشش ایسے وقت ہو رہی ہے جب نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات میں کشیدگی ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر بھاری ٹیرفس عائد کیے ہیں۔ بھارت، جو ایشیا میں چین کے اثر و رسوخ کا توازن سمجھا جاتا ہے، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے "کواڈ" سکیورٹی اتحاد ک

 

بھارت اور چین کے درمیان دہائیوں پرانا سرحدی تنازع ہے، جس نے 2020 میں لداخ میں فوجیوں کی مہلک جھڑپ کے بعد شدت اختیار کی۔ تعلقات میں سرد مہری نے تجارت، سفارت کاری اور فضائی سفر کو متاثر کیا، اور دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں ہزاروں سکیورٹی فورسز تعینات کر دی ہیں۔

 

تاہم حالیہ پیش رفت میں بھارت اور چین نے سرحدی گشت کے معاہدے پر اتفاق کیا اور کچھ فوجیں ہٹا لیں۔ دونوں ملک سڑکوں اور ریلوے نیٹ ورکس کی تعمیر کے ذریعے اپنی سرحدیں مضبوط کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں تجارتی پابندیوں میں نرمی، شہریوں کی آمد و رفت اور کاروباری ویزوں کے مسائل پر بات چیت بھی ہوئی ہے۔ جون میں، چین نے بھارتی ہندو زائرین کو مخصوص مقامات پر جانے کی اجازت دی، اور دونوں ممالک براہِ راست پروازیں بحال کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

 

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق، بھارت اور چین 3,488 کلومیٹر طویل سرحد پر تین مقامات سے تجارت دوبارہ شروع کرنے پر بات کر رہے ہیں۔ نئی دہلی میں قائم تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے رکن منوج جوشی کا کہنا ہے کہ تعلقات اب بھی غیر یقینی سطح پر معمول پر لانے کے مرحلے میں ہیں اور سرحدی تنازع کے حل کے لیے اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر سمجھوتے کی ضرورت ہے۔

 

چینی وزیر خارجہ کا بیان

 

وانگ ژی نے کہا کہ دونوں ممالک کو "درست اسٹریٹجک سمجھ بوجھ" پیدا کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کو شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ مخالف کے طور پر۔ چین کی وزارت خارجہ کے مطابق، ہر سطح پر تبادلے اور مذاکرات بتدریج بحال ہو رہے ہیں اور تعلقات دوبارہ تعاون کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہر سطح پر مکالمے کی بحالی اور سرحدی علاقوں میں امن و سکون باہمی تعاون کی واپسی کا ثبوت ہیں۔

 

بھارتی موقف

 

بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا کہ بھارت اور چین اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اختلافات تنازعے میں، اور مسابقت تصادم میں نہیں بدلنے چاہئیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، وزیر اعظم مودی اس ماہ چین کا دورہ کر سکتے ہیں، جو 2018 کے بعد ان کا پہلا دورہ ہوگا۔ جے شنکر کے مطابق، اکتوبر میں روس میں مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C