12/November/2025

وائٹ ہاؤس: شامی صدر الشرع نے داعش مخالف امریکی اتحاد میں شمولیت کا اعلان کردیا

👁️ 216 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
وائٹ ہاؤس: شامی صدر الشرع نے داعش مخالف امریکی اتحاد میں شمولیت کا اعلان کردیا

وائٹ ہاؤس: شامی صدر الشرع نے داعش مخالف امریکی اتحاد میں شمولیت کا اعلان کردیا

واشنگٹن (ڈیلی اردو) وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد شام نے پیر کے روز شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف امریکی قیادت والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی۔

 

شامی حکومت کے مطابق یہ اقدام ملک کے عبوری صدر احمد الشرع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی استحکام پر اتفاق کیا۔ الشرع 1946 کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے شامی سربراہِ مملکت بن گئے۔ 

 

امریکی حکام کے مطابق داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت سے شام کو دہشت گردی کے خاتمے، سلامتی، اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔ 

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب شامی حکومت اندرونِ ملک داعش کے باقیات کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور فرقہ وارانہ تشدد کی نئی لہر سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 

 

شامی وزیر اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے اعلان کیا کہ معاہدہ فی الحال سیاسی نوعیت کا ہے اور اس میں کوئی فوجی شق شامل نہیں، تاہم یہ عالمی سطح پر شام کے لیے اہم شراکت داری کی علامت ہے اور دہشت گردی کے خلاف شراکت دار کے طور پر اس کے کردار کی توثیق کرتا ہے۔ اس کے ساتھ شام کو امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی بھی اجازت دی جائے گی تاکہ دہشت گردی، سلامتی اور اقتصادی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ 

 

داعش ایک وقت میں عراق کے تقریباً 40 فیصد اور شام کے ایک تہائی علاقے پر قابض تھی، امریکی قیادت والے فوجی اتحاد نے 2014 میں کارروائیاں شروع کیں اور اب اسے فوجی طور پر شکست خوردہ سمجھا جاتا ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق عراق اور شام میں تقریباً 2,500 جنگجو اب بھی موجود ہیں۔ 

 

ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شام خانہ جنگی کے بعد انتہائی کامیاب ملک بنے اور الشرع اس قابل ہیں کہ وہ یہ کر سکتے ہیں، انہیں مضبوط اور کامیاب لیڈر قرار دیا اور کہا کہ شام مشرق وسطیٰ میں امن منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ 

 

شامی صدر کا یہ دورہ سابق جہادی کے لیے غیر معمولی تبدیلی کی علامت ہے، جس کے سر پر کبھی امریکہ نے 10 ملین ڈالر انعام رکھا تھا، ملاقات کے دوران الشرع اور ٹرمپ نے دو طرفہ تعلقات، علاقائی و بین الاقوامی امور پر گفتگو کی، تصاویر میں دونوں رہنماؤں کو اوول آفس میں ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ امریکی نائب صدر، پینٹاگون کے سربراہ اور اعلیٰ فوجی افسر بھی موجود تھے۔ 

 

شامی حکومت اقتدار پر گرفت مضبوط کر رہی ہے تاہم اسے فرقہ وارانہ بدامنی کا سامنا ہے، جس میں بشار الاسد کے بعد سے 2,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اسلامک اسٹیٹ کے ذریعے الشرع کے قتل کی دو سازشیں حالیہ مہینوں میں ناکام بنائی گئیں، جس کے بعد ملک بھر میں داعش کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا، تاہم ناقدین کے مطابق ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی نئی لہر جاری ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C