09/October/2026

ٹرمپ کا اعلان: 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے ایران پر نیا حملہ نہیں کریں گے، تہران سے مذاکرات جاری رکھنے کا دعویٰ

👁️ 115 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ کا اعلان: 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے ایران پر نیا حملہ نہیں کریں گے، تہران سے مذاکرات جاری رکھنے کا دعویٰ

ٹرمپ کا اعلان: 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے ایران پر نیا حملہ نہیں کریں گے، تہران سے مذاکرات جاری رکھنے کا دعویٰ

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کر رہا ہے اور 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اس کے ساتھ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران کو معاشی اور عسکری طور پر شدید نقصان پہنچا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایک ہی رات میں اس آبی گزرگاہ سے 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل منتقل ہوا، جس میں سے کوئی بھی بیرل ایران سے نہ آیا اور نہ ہی ایران گیا۔ ٹرمپ کے اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی پوری قوت کے ساتھ برقرار رہے گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا ہے، تاہم ٹرمپ نے تہران کی تازہ پیشکش مسترد کردی تھی۔ جوہری پروگرام بھی مذاکرات میں اہم اختلافی معاملہ ہے۔ امریکی حکام ایران کی یورینیم افزودگی میں نمایاں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے افزودگی ترک کرنے اور یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرنے سے انکار کیا ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔

امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ اور برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اعلان ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران سامنے آیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے فروری 2026 میں ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

رائٹرز اور اِپسوس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، 60 فیصد امریکیوں نے ایران سے متعلق جنگ کے بارے میں ٹرمپ کی حکمت عملی پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی امریکی عوام کے معاشی خدشات بڑھائے ہیں۔ اس تناظر میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملے نہ کرنے کا اعلان امریکی داخلی سیاست کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، تاہم ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ انتخابات سے متعلق سیاسی دباؤ قرار نہیں دی۔

ٹرمپ کے اعلان کے باوجود ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے، ناکہ بندی اٹھانے اور جوہری تنازعے کے حل کے بارے میں کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے آئندہ صورتحال کا انحصار دونوں ممالک کے مذاکرات اور ان کے عملی فیصلوں پر ہوگا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C