18/December/2025

ٹرمپ کے غزہ پلان پر عمل کیلئے پاکستان پر دباؤ، عاصم منیر کو عالمی امتحان درپیش

👁️ 253 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ کے غزہ پلان پر عمل کیلئے پاکستان پر دباؤ، عاصم منیر کو عالمی امتحان درپیش

ٹرمپ کے غزہ پلان پر عمل کیلئے پاکستان پر دباؤ، عاصم منیر کو عالمی امتحان درپیش

اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) پاکستان کے طاقتور فوجی سربراہ عاصم منیر، جنہیں حالیہ برسوں میں ملک کا سب سے بااثر عسکری رہنما قرار دیا جا رہا ہے، اپنی نئی حاصل شدہ طاقت کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ واشنگٹن اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ غزہ پٹی میں استحکام کے لیے مجوزہ بین الاقوامی فورس میں اپنے فوجی دستے بھیجے، ایک ایسا اقدام جو ماہرین کے مطابق پاکستان میں شدید عوامی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔

 

فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ ہفتوں میں واشنگٹن جانے والے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر سکیں۔ یہ چھ ماہ کے اندر ان کی تیسری ملاقات ہوگی، جس کا بنیادی مقصد غالباً غزہ فورس پر بات چیت ہوگا۔ یہ بات دو ذرائع نے روئٹرز کو بتائی، جن میں سے ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اقتصادی سفارت کاری میں اہم کردار کا حامل ہے۔ یہ عوامل دونوں کے درمیان تعلقات کے مضبوط ہونے کی نشاندہی کرتے  ہیں۔ 

 

جون میں عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ لنچ پر مدعو کیا گیا تھا، جو ایک تاریخی موقع تھا کیونکہ اس ملاقات میں کوئی پاکستانی سول عہدیدار شامل نہیں تھا۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے میں مسلم ممالک سے فوجی دستے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ غزہ پٹی میں تعمیر نو اور معاشی بحالی کے لیے عبوری مدت کے دوران امن قائم رکھا جا سکے۔ یہ علاقہ دو سال سے زائد عرصے تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔

 

منصوبے کا ایک اہم پہلو حماس کو غیر مسلح کرنا بھی ہے، جو کئی ممالک کے لیے ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ اس سے داخلی سطح پر شدید سیاسی اور عوامی ردعمل کا خطرہ ہے۔

پاکستان پر دباؤ اور داخلی چیلنجز

 

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان غزہ استحکامی فورس میں حصہ نہیں لیتا تو یہ بات صدر ٹرمپ کو ناراض کر سکتی ہے، جو اسلام آباد کے لیے اس طرح ایک خطرناک پیش رفت ہو سکتی ہے کہ پاکستان امریکی سرمایہ کاری اور سکیورٹی امداد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

 

پاکستانی فوج دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور اس نے تین بار بھارت کے ساتھ جنگ لڑی ہے۔ اس کے علاوہ ملک اندرونی شورشوں کا شکار اور حالیہ برسوں میں افغان سرحد کے ذریعے آنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہا ہے۔

 

واشنگٹن میں قائم اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے، ’’غزہ فورس میں حصہ نہ لینا ٹرمپ کو ناراض کر سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے کوئی معمولی بات نہیں۔‘‘

 

دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کے مطابق، ’’پاکستان کی فوجی طاقت کی وجہ سے منیر پر زیادہ دباؤ ہے کہ وہ اپنی صلاحیت دکھائیں۔‘‘

 

پاکستانی وزارت خارجہ اور فوج نے اس معاملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اسلام آباد امن قائم رکھنے کے لیے فوجی دستے بھیجنے پر غور کر سکتا ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنا ’’ہمارا کام نہیں۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C