پاکستان: انسدادِ دہشت گردی ترمیم منظور، مشتبہ افراد تین ماہ حراست میں رہ سکیں گے
👁️ 451 بار دیکھا گیا
پاکستان: انسدادِ دہشت گردی ترمیم منظور، مشتبہ افراد تین ماہ حراست میں رہ سکیں گے
اسلام آباد (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملک میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے انسدادِ دہشت گردی قوانین میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے افراد کو تین ماہ تک حراست میں رکھ سکیں، اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی منظوری سے مزید تین ماہ کے لیے بھی حراست بڑھائی جا سکے۔
ترمیم کی تفصیلات اور اثرات
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ یہ قانون دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے اور اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی کرنے کے لیے قانونی جواز ملے گا۔ قانون تین سال کے لیے نافذ العمل ہوگا۔
قانون کے مطابق اگر حراست کا حکم مسلح افواج یا سول مسلح افواج کی جانب سے جاری کیا جائے گا تو تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی، جس میں پولیس کے اعلیٰ افسر، خفیہ ایجنسیاں اور دیگر ادارے شامل ہوں گے۔
اپوزیشن اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی تنقید
انسدادِ دہشت گردی قوانین میں دیے گئے اضافی اختیارات پر انسانی حقوق کے کارکن، وکلا اور حزب اختلاف کی جماعتیں تنقید کر رہی ہیں اور اسے غیر آئینی قرار دے رہی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اسے ’کالا قانون‘ قرار دیا جبکہ سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ اس سے قانون مزید غیر انسانی اور غیر دستوری بن جائے گا۔
انسانی حقوق کی کارکن و وکیل ایمان مزاری نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس ترمیم سے جبری گمشدگیوں کو قانونی تحفظ مل سکتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
حکومت کا موقف
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ قانون صرف مخصوص حالات اور مدت کے لیے ہے اور گرفتار کیے گئے افراد کو 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس قانون سے ’مسنگ پرسنز‘ کے مسئلے کا حل ممکن ہوگا۔
تاریخی پس منظر اور تجزیہ
تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ دہشت گردی کے جرائم پر انسدادِ دہشت گردی قانون سنہ 1997 میں منظور ہوا تھا، اور اگر صحیح طریقے سے عمل درآمد ہو تو مزید ترامیم کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت سے زیادہ قوانین بنانے سے بہتر ہے کہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
سکیورٹی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے بعد ملک میں دہشت گردی کی صورتحال تشویشناک ہے، اور دہشت گردوں کی سہولت کاری بعض علاقوں میں رشتہ داری اور نسلی بنیادوں پر ہوتی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
یمن : باب المندب کے قریب اہم حوثی کمانڈر سفیان الحمیری ہلاک
28/September/2026 👁️ 61 بار دیکھا گیا
حماس سربراہ کا پہلا انٹریو: یمن صورتحال پر ثالثی کی پیشکش، دونوں فریقین سے مذکرات پر زور
28/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
شام: درعا میں دستی بم کے دھماکے سے خاتون ہلاک، شوہر شدید زخمی
28/September/2026 👁️ 61 بار دیکھا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، ٹی ٹی پی کے 4 دہشتگرد ہلاک
28/September/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشتگرد حملوں اور پولیس نقصانات میں اضافہ، وائٹ پیپر میں حکومت سے جواب طلب
28/September/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
عراق: سیکیورٹی فورسز اور داعش جنگجوؤں میں جھڑپ، 2 دہشتگرد اور ایک شہری ہلاک
28/September/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26340 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15586 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11873 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9202 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7476 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5301 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C