18/September/2025

پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی دفاعی معاہدہ، پاکستان حرمین شریفین کا پارٹنر

👁️ 399 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی دفاعی معاہدہ، پاکستان حرمین شریفین کا پارٹنر

پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی دفاعی معاہدہ، پاکستان حرمین شریفین کا پارٹنر

ریاض (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دارالحکومت ریاض میں تاریخی "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ" (SMDA) پر دستخط ہوگئے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر مصدق ملک بھی موجود تھے۔ 

 

وزیرِاعظم شہباز شریف قصر یمامہ پہنچے، جہاں سعودی شاہی پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اور سعودی مسلح افواج کے دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ 

 

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیرِاعظم کا پرتپاک استقبال کیا اور دونوں رہنما پرجوش انداز میں گلے ملے۔ دستخطی تقریب کے موقع پر دونوں ممالک کے وفود بھی موجود تھے۔

 

معاہدے کی اہم شقوں کے مطابق کسی بھی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، اور دونوں ممالک اپنی تمام فوجی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے دفاع کے لیے بروئے کار لائیں گے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے طویل المدتی دفاعی تعلقات اور تاریخی شراکت داری کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور یہ خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے فروغ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

 

سعودی اعلیٰ عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص واقعے کے ردِعمل میں نہیں کیا گیا بلکہ یہ دونوں ممالک کے طویل المدتی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ جامع دفاعی معاہدہ ہے اور تمام فوجی وسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

 

اعلامیے کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا اور معاہدے کے بعد پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کا اسٹریٹجک پارٹنر بن گیا ہے۔ موجودہ اور متوقع خطرات کے تناظر میں یہ معاہدہ دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری اور انضمام کو بڑھائے گا اور کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ صلاحیت فراہم کرے گا۔

 

معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے گہرے دوطرفہ تعلقات اور سکیورٹی تعاون کی توثیق کرتے ہیں۔ یہ معاہدہ دہائیوں پر محیط مشترکہ فوجی تربیت، کثیرالجہتی مشقوں اور دفاعی صنعتی تعاون کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ معاہدہ امن کے فروغ اور علاقائی و عالمی سلامتی کو مستحکم کرنے کے مشترکہ مقاصد کو پورا کرتا ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے سکیورٹی، معیشت اور سفارتکاری میں انتہائی فائدہ مند ہے اور دونوں ممالک کسی بھی خطرے سے مشترکہ طور پر نمٹیں گے۔

 

اعلامیے کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے ال یمامہ پیلس میں وزیرِاعظم کا استقبال کیا اور دونوں ممالک کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ اجلاس ہوا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ لیا جبکہ مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C