31/May/2026

پاکستان میزائل پروگرام: امریکی وزیر دفاع کا براہِ راست خطرہ قرار دینے سے گریز

👁️ 300 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میزائل پروگرام: امریکی وزیر دفاع کا براہِ راست خطرہ قرار دینے سے گریز

پاکستان میزائل پروگرام: امریکی وزیر دفاع کا براہِ راست خطرہ قرار دینے سے گریز

سنگاپور (ڈیلی اردو) سنگاپور میں ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق سوال کے جواب میں اسلام آباد کو براہِ راست امریکہ کے لیے خطرہ قرار دینے سے گریز کیا، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان کے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کردار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

 

پاکستان کے ممکنہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام اور بھارت کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام سے متعلق سوال پر پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ وہ کسی بھی ملک کو امریکہ کے لیے فوری یا براہِ راست خطرہ قرار نہیں دیں گے۔ 

 

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے حوالے سے سکیورٹی خدشات رکھتے ہیں، جبکہ امریکہ دونوں کے عالمی امن کے لیے کردار کو بھی اہم سمجھتا ہے۔

 

دوسری جانب حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالثی کردار پر بھی توجہ مرکوز رہی ہے۔ اگرچہ امریکی حلقوں میں بعض شکوک و شبہات سامنے آئے، تاہم امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے پاکستان کے کردار پر اعتماد کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔

 

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے چند روز قبل جنگ بندی سے متعلق اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں مسترد کر دیا، جس کے بعد سے مذاکراتی عمل میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

 

اسی دوران چین نے بھی پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل کو تیز کرے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطے میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات اور جنگ بندی کی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔

 

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق چین مشرق وسطیٰ میں استحکام چاہتا ہے کیونکہ اس کی توانائی کی بڑی ضروریات اسی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا طویل کشیدگی چین کے معاشی مفادات کو متاثر کر سکتی ہے، اسی لیے وہ پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کر رہا ہے۔

 

ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اس وقت بنیادی طور پر پیغام رسانی اور سفارتی رابطوں تک محدود کردار ادا کر رہا ہے اور وہ براہِ راست کسی فریق پر دباؤ ڈالنے یا مذاکراتی شرائط طے کرانے کی پوزیشن میں نہیں۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل سمیت اس تنازع میں متعدد فریق شامل ہیں جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان دہائیوں پر محیط عدم اعتماد بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کا عمل تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے، تاہم پاکستان اب بھی دونوں فریقین کے درمیان رابطے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں اس کردار کا انحصار خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال پر ہو گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C