01/October/2023

پنجاب: میانوالی میں عیسیٰ خیل کنڈل پٹرولنگ پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، ٹی ٹی پی کے 2 دہشت گرد ہلاک

👁️ 32 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پنجاب: میانوالی میں عیسیٰ خیل کنڈل پٹرولنگ پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، ٹی ٹی پی کے 2 دہشت گرد ہلاک

پنجاب: میانوالی میں عیسیٰ خیل کنڈل پٹرولنگ پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، ٹی ٹی پی کے 2 دہشت گرد ہلاک

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں عیسیٰ خیل کنڈل پٹرولنگ پوسٹ پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے حملے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ 2 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر عثمان انور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ شب تقریباً 11 بج کر 45 منٹ پر 12 سے 15 دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا، تاہم انسداد دہشت گردی پنجاب کے تعاون سے ایک جرأت مندانہ کارروائی میں حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔

آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران ہیڈ کانسٹیبل ہارون غیرمعمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے، متعدد دہشت گرد زخمی ہوئے، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے علاقے کی مکمل تلاشی کے بعد 2 دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

بیان کے مطابق آپریشن آج صبح 7 بج کر 45 منٹ پر اختتام پذیر ہوا اور اس کے نتیجے میں 2 دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، ایک جامع ڈیٹا بیس اور مقامی انٹیلی جنس کی مدد سے دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت زبیر نواز کے طور پر ہوئی جو کہ لکی مروت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹیپو گروپ کے امیر ارشد نواز کا بھائی تھا۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) حکام کے مطابق دوسرے دہشت گرد کی شناخت محمد خان کے نام سے ہوئی ہے اور اس کا تعلق بھی کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپو گروپ سے تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں دہشت گردوں کی شناخت انٹیلی جنس ایجنسیوں اور جدید سافٹ ویئرز کی مدد سے ہوئی۔

زبیر نواز پنجاب اور خیبرپختونخوا دونوں صوبوں میں پولیس افسران، شیعہ برادری کے ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتی اور بھتہ خوری کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں کی فہرستوں میں سرفہرست تھا۔

بیان میں بتایا گیا کہ دوسرے دہشت گرد محمد خان کی شناخت اس گروپ کے نمایاں رکن کے طور پر ہوئی ہے جو زبیر سے بھی زیادہ خطرناک سمجھا جاتا تھا، اس کی شناخت نادرا، مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے استعمال کیے گئے جدید سافٹ ویئر سمیت بھرپور کوششوں کے ذریعے حاصل کی گئی۔

’دہشت گردوں کے دیگر ساتھیوں کا تعاقب کیا جا رہا ہے‘ آئی جی

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ یہ آپریشن ہماری سیکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل عزم اور بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ہمارے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پُرعزم ہیں، دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں امن اور انصاف کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔

ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، ہلاک ہونے والے شرپسند ملک بھر میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث تھے، واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، دہشت گردوں کے دیگر ساتھیوں کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے حملہ پسپا کرنے اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو سراہا، انہوں نے کہا کہ فرض کی راہ میں شہادت کا عظیم مقام پانے والے کانسٹیبل ہارون خان کو سلام پیش کرتے ہیں۔

پاکستان تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا پیٹرولنگ پولیس کو خراج تحسین

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے میانوالی میں کنڈل پیٹرولنگ پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پیٹرولنگ پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے بہادر سپوتوں نے جرات اور بہادری سے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، پولیس اہلکاروں نے جان پر کھیل کر بروقت کارروائی کرکے دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنایا، اِن پولیس اہلکاروں کو میں شاباش دیتا ہوں۔

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار ہارون خان کو خراج عقیدت پیش کیا، انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار ہارون خان نے فرض کی ادائیگی میں جان دے کر اعلی مثال قائم کی، ہارون خان قوم کا ہیرو ہے۔ عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے ہارون خان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ شہید اہلکار ہارون خان کے اہل خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ محض 2 روز قبل 29 ستمبر کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 12 ربیع الاول کے جلوس میں خودکش دھماکے میں پولیس افسر سمیت 59 افراد اور درجنوں شہری زخمی ہوگئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کردی تھی۔

اسی روز خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے دوابہ تھانے کی حدود میں ہونے والے 2 خودکش دھماکوں کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے تھے۔

قبل ازیں 14 ستمبر کو مستونگ میں ہونے والے دھماکے میں جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما حافظ حمداللہ سمیت 11 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اس دھماکے سے ایک ہفتہ قبل ایک لیویز اہلکار کو ایک بس اسٹینڈ پر دہشت گردوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جبکہ وہاں سے گزرنے والے 2 افراد بھی زخمی ہوگئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C