22/October/2025

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ: ایرانی دہشت گرد تنظیمیں ملوث، اہم گرفتاریوں کا امکان

👁️ 583 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ: ایرانی دہشت گرد تنظیمیں ملوث، اہم گرفتاریوں کا امکان

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ: ایرانی دہشت گرد تنظیمیں ملوث، اہم گرفتاریوں کا امکان

کراچی (س ط ع) پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایرانی دہشت گرد تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ 

 

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کچھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق، کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں پڑوسی ملک ایران سے آئے ٹارگٹ کلرز کے نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق کالعدم شدت پسند تنظیم زینبیون بریگیڈ کے ٹارگٹ کلرز حال ہی میں ایران سے پاکستان داخل ہوئے اور تفتیش کے دوران ان کی نشاندہی کی گئی۔

 

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات میں دو گروپس ملوث پائے گئے ہیں، جن کا مقصد شہر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنا ہے۔ گرفتار افراد کی نشاندہی پر مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ روز ناگن چورنگی کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کالعدم شدت پسند تنظیم اہلِسنت والجماعت سے وابستہ مولانا سید شاہ اویس پیرزادہ اور ان کے ساتھی ابوبکر ہلاک ہو گئے تھے۔ مولانا اویس پیرزادہ گلگت بلتستان کے ضلع استور سے تعلق رکھتے تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور ہیلمٹ پہن کر فرار ہو گئے۔

 

زینبیون بریگیڈ کا پس منظر

 

سن 2024 میں سی ٹی ڈی کے سربراہ ڈی آئی جی آصف اعجاز شیخ نے کراچی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کی وارداتوں میں زینبیون بریگیڈ کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2023 سے فروری 2024 کے دوران 17 افراد فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاک ہوئے اور سی ٹی ڈی نے 25 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

 

پاکستانی حکام نے حالیہ برسوں میں زینبیون بریگیڈ سے وابستہ متعدد عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں زیادہ تر گرفتاریاں کراچی سے کی گئیں، جبکہ تین دیگر علاقوں پاراچنار، کوئٹہ اور گلگت بلتستان  سے بھی ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔

 

وزارت داخلہ پاکستان نے مارچ 2024 میں زینبیون بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا اور کہا کہ یہ تنظیم ملک کے امن و سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ 

 

واشنگٹن میں مقیم پاکستانی صحافی شبیر حسین طوری کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے بھی زینبیون بریگیڈ کو 2019 سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

 

شبیر حسین طوری کے مطابق، زینبیون بریگیڈ کا قیام شام میں بی بی زینب کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے کیا گیا تھا، اور پاکستانی شدت پسند تنظیم سپاہ محمد کے افراد بھی اس میں شامل کیے گئے تاکہ وہ شام کی خانہ جنگی میں حصہ لے سکیں۔ شام میں خانہ جنگی 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف پرامن احتجاج سے شروع ہوئی اور بعد میں فرقہ واریت کی شکل اختیار کر گئی۔ 

 

سیرئن آبزرویٹری فار ہیوم رائٹس کے مطابق اس جنگ میں اب تک تقریباً چار لاکھ تصدیق شدہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

دہشت گردی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی شبیر طوری کے مطابق، شام میں جنگ کے بعد کئی ممالک کی شدت پسند تنظیمیں وہاں پہنچیں، اور امریکی سکیورٹی فرم سوفان گروپ کے مطابق 2016 تک شام میں 81 ممالک کی شدت پسند تنظیمیں موجود تھیں، جن میں پاکستانی شدت پسند تنظیمیں بھی شامل تھیں۔

 

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے پولیس اور رینجرز کی کارروائیاں جاری ہیں اور شہر میں حفاظتی گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C