17/February/2023

کراچی پولیس ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کا حملہ، دو پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد ہلاک

👁️ 26 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی پولیس ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کا حملہ، دو پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد ہلاک

کراچی پولیس ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کا حملہ، دو پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد ہلاک

کراچی (ڈیلی اردو) پاکستان کے شہر کراچی کے پولیس ہیڈ آفس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جب کہ زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر حملہ آوروں نے کراچی پولیس آفس(کے پی او) کو جمعے کی شب سوا سات بجے نشانہ بنایا ہے جس کے بعد پورا علاقہ فائرنگ سے گونج رہا ہے۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کراچی پولیس آفس پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

نجی نیوز چینل ‘جیو’ کے مطابق کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کی تصدیق کی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے جس کے بعد مقابلہ جاری ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک بیان میں بتایا کہ اُن کی آئی جی سندھ سے بات ہوئی ہے جن کے مطابق عمارت میں چھ سے سات دہشت گرد موجود ہیں۔

رانا ثناء کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد پولیس آفس کے تیسرے فلور ہیں جہاں مزاحمت جاری ہے۔ حملہ آوروں نے پہلے پارکنگ پر دستی بم پھینکا جس کے بعد فائرنگ شروع کر دی۔

جناح اسپتال ذرائع کے مطابق ایک زخمی کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

رینجرز کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا ہے جب کہ شہر کے مختلف علاقوں سے پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس ہیڈ آفس آنے والے راستوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

کراچی پولیس آفس شہر کی مصروف ترین شاہراہ فیصل سے متصل ہے۔ جب کہ کے پی او سے متصل صدر تھانہ اور ویمن پولیس اسٹیشن موجود ہے, اس آفس کے قریب تجارتی عمارتیں اورمسیحی قبرستان بھی ہے۔

کراچی پولیس آفس حملہ: دق پولیس اہلکار سمیت چاع افراد ہلاک

کراچی پولیس آفس پر حملے کے نتیجے میں اب تک کم سے کم ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک جبکہ کم سے کم چار زخمی ہوئے ہیں۔

کراچی پولیس آفس کی پانچ میں سے تین منزلیں کلیئر کروا لی گئیں، دو دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں، مراد علی شاہ

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اب تک کی اطلاع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر سات بج کر 10 منٹ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا اور اس وقت عمارت کی پانچ میں سے تین منزلوں کو کلیئر کروا لیا گیا ہے۔

مراد علی شاہ نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک دو دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں پانچ زخمیوں کو لایا گیا ہے اور اس وقت ترجیح ہے کہ صورتحال کو کنٹرول کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ میں خود سینٹرل پولیس آفس میں بیٹھ کر صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہوں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا نوٹس

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیرِ اعلٰی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

شہباز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی پر کراچی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شاباش دی ہے۔

وزیرِ اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے واقعہ کو نوٹس لیتے ہوئے کہا کراچی پولیس آفس پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔

مراد علی شاہ نے حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے جب کہ وزیرِ اعلٰی آفس کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلٰی خود اس سارے آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

نجی نیوز چینل دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے دعویٰ کیا کہ اس حملے پر 90 فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ حملہ دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C