کرم: افغان طالبان کا ایک اور حملہ! پاکستانی فوج نے ٹینک سمیت متعدد پوسٹس تباہ کر دیں
👁️ 347 بار دیکھا گیا
کرم: افغان طالبان کا ایک اور حملہ! پاکستانی فوج نے ٹینک سمیت متعدد پوسٹس تباہ کر دیں
پاراچنار + اسلام آباد (نمائندگان ڈیلی اردو) پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔
پاکستان کے قبائلی ضلع کرم کے پاک-افغان سرحدی علاقے میں افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے طالبان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر دیا، جبکہ ایک چلتا ہوا ٹینک بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی حملے کے دوران طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے اور متعدد جنگجو اپنی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
سرکاری ٹی وی چینل پاکستان ٹیلی ویژن نیوز (پی ٹی وی) کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد افواجِ پاکستان نے بروقت ردِعمل دیا اور شدید جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں طالبان کی پوسٹس پر آگ بھڑک اٹھی۔
کرم سیکٹر میں کی جانے والی کارروائی کے دوران پاک فوج نے انتہائی مہارت اور پیشہ ورانہ انداز میں طالبان کے ایک چلتے ہوئے ٹینک کو نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ ذرائع کے مطابق تباہ شدہ ٹینک کی فوٹیج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق پاک فوج نے افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں پر مسلسل کارروائیاں جاری رکھیں۔ ایک گھنٹے کے دوران پاک فوج نے چوتھی ٹینک پوزیشن "شمشاد پوسٹ" کو بھی تباہ کر دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کارروائی کے دوران طالبان کے جنگجو شدید گھبراہٹ میں اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی اداروں کو شبہ ہے کہ اس کارروائی میں طالبان کا ایک اہم کمانڈر بھی ہلاک ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق کرم سیکٹر میں فائرنگ کا یہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب افغان طالبان نے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم پاک فوج نے بھرپور اور فوری ردِعمل دیتے ہوئے دشمن کی پوسٹس کو مکمل طور پر خاموش کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی یہ کارروائیاں نہ صرف افغان طالبان بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے خلاف بھی تھیں، جو سرحد پار سے پاکستان کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔
واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب بھی پاک-افغان سرحد پر افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے پاکستان پر بلااشتعال حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اُس کارروائی میں 200 سے زائد افغان طالبان اور دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے، جبکہ جوابی فائرنگ کے دوران پاک فوج کے 23 اہلکار ہلاک اور 29 زخمی ہوئے تھے۔
اسلام آباد نے اس واقعے کے بعد کابل حکومت سے شدید احتجاج کرتے ہوئے متعدد بار مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے دہشت گرد گروہوں کو استعمال کرنے سے روکے۔ تاہم افغان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔
دوسری جانب امریکا اور چین نے پاک-افغان سرحدی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے حل میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح چین نے بھی فریقین سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے حال ہی میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ اس وقت اسلام آباد اور کابل کے درمیان نہ براہِ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی تعلقات موجود ہیں۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات ایک "جمود" کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگرچہ اس وقت فعال دشمنی نہیں، مگر ماحول انتہائی کشیدہ ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ جھڑپیں شروع ہو سکتی ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا تھا کہ اگر افغانستان مذاکرات چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے، تو اسے اپنی دھمکیوں پر عمل کر لینا چاہیے، ہم بعد میں بات چیت کر لیں گے۔
وزیرِ دفاع کے بقول اگر کسی ملک کی جانب سے حملہ کیا جائے تو اُس ملک کو جواب دینے اور حملہ آور کے مقام کو نشانہ بنانے کا مکمل حق حاصل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی 9 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "شہدا نے اپنے خون سے لکیر کھینچ دی ہے، اب فیصلے کا وقت آ چکا ہے۔" وزیراعظم کے مطابق یہ وہ دہشت گرد ہیں جو افغانستان سے آکر پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جس ملک نے انہیں عزت دی، اُسی کے خلاف دشمنی کر رہے ہیں۔
کرم اور دیگر سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کابل حکومت نے پاکستان کے خدشات دور کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو سرحدی تناؤ مکمل مسلح تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8817 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4531 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3259 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2437 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2081 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1885 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C