25/August/2025

ہائپرسونک میزائلوں کی عالمی دوڑ: چین کی برتری، روس کی جارحیت اور مغرب کی تشویش

👁️ 595 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ہائپرسونک میزائلوں کی عالمی دوڑ: چین کی برتری، روس کی جارحیت اور مغرب کی تشویش

ہائپرسونک میزائلوں کی عالمی دوڑ: چین کی برتری، روس کی جارحیت اور مغرب کی تشویش

لندن (ڈیلی اردو/بی بی سی ) بیجنگ میں یکم اکتوبر 2019 کو ہونے والی چین کے نیشنل ڈے پریڈ میں دنیا نے پہلی مرتبہ پیپلز لبریشن آرمی کے ہائپرسونک میزائلوں کی جھلک دیکھی۔ 11 میٹر لمبے اور 15 ٹن وزنی DF-17 میزائل دیوہیکل لاریوں پر نصب، خزاں کی دھوپ میں دھیرے دھیرے ہجوم کے سامنے سے گزر رہے تھے۔

 

ہائپرسونک میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز (میک 5) سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو انہیں روایتی یا سپرسونک میزائلوں سے قبل از وقت روکنا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ جدید ورژنز راستہ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس سے دفاعی نظام مزید کمزور ہو جاتا ہے۔

 

چین اس وقت ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد روس ہے، جو اپنے "ایون گارڈ" میزائل کو میک 27 (تقریباً 20 ہزار میل فی گھنٹہ) تک کی رفتار والا قرار دیتا ہے۔ 2024 کے آخر میں چین نے "جی ڈی ایف 600" متعارف کرایا، جو ایک وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے اور میک 7 (5,370 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

روس نے نومبر 2024 میں یوکرین کے شہر دنیپرو پر "اوری شنک" نامی درمیانی فاصلے کے میزائل کا تجربہ کیا، جس نے ہائپرسونک صلاحیت کے عملی خطرے کو مزید نمایاں کر دیا۔

 

امریکہ نے "ڈارک ایگل" ہائپرسونک ہتھیار کی تیاری مکمل کر لی ہے، جبکہ برطانیہ نے اپریل 2025 میں ناسا لینگلے ریسرچ سینٹر میں 233 کامیاب پروپلشن ٹیسٹ رنز کے بعد اعلان کیا کہ وہ اس دوڑ میں شمولیت کے لیے ایک "سنگِ میل" عبور کر چکا ہے۔ تاہم مغربی ممالک اب بھی چین اور روس کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔

فرانس، جاپان، اسرائیل اور ایران بھی اپنے اپنے ورژنز تیار کر رہے ہیں۔ ایران نے 2024 میں اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ میں ہائپرسونک میزائل استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ شمالی کوریا 2021 سے اپنی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔

 

ہائپرسونک ہتھیاروں کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ روایتی ریڈار انہیں اس وقت تک نہیں پکڑ پاتے جب تک وہ اپنے ہدف کے قریب نہ پہنچ جائیں۔ امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق موجودہ سینسرز ناکافی ہیں اور خلائی نگرانی کو بڑھانا ناگزیر ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت سپرسونک یا سب سونک میزائلوں سے زیادہ مختلف نہیں، لیکن ان کا پتہ لگانا، ٹریک کرنا اور روکنا انتہائی مشکل ہے۔ بوسٹ گلائیڈ اور ہائپرسونک کروز میزائل اس ٹیکنالوجی کی دو بڑی اقسام ہیں۔

 

ہائپرسونک میزائلوں کی عالمی دوڑ: چین کی برتری، روس کی جارحیت اور مغرب کی تشویش

 

بیجنگ میں یکم اکتوبر 2019 کو ہونے والی چین کے نیشنل ڈے پریڈ میں دنیا نے پہلی مرتبہ پیپلز لبریشن آرمی کے ہائپرسونک میزائلوں کی جھلک دیکھی۔ 11 میٹر لمبے اور 15 ٹن وزنی DF-17 میزائل دیوہیکل لاریوں پر نصب، خزاں کی دھوپ میں دھیرے دھیرے ہجوم کے سامنے سے گزر رہے تھے۔

 

ہائپرسونک میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز (میک 5) سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو انہیں روایتی یا سپرسونک میزائلوں سے قبل از وقت روکنا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ جدید ورژنز راستہ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس سے دفاعی نظام مزید کمزور ہو جاتا ہے۔

 

چین اس وقت ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد روس ہے، جو اپنے "ایون گارڈ" میزائل کو میک 27 (تقریباً 20 ہزار میل فی گھنٹہ) تک کی رفتار والا قرار دیتا ہے۔ 2024 کے آخر میں چین نے "جی ڈی ایف 600" متعارف کرایا، جو ایک وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے اور میک 7 (5,370 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

روس نے نومبر 2024 میں یوکرین کے شہر دنیپرو پر "اوری شنک" نامی درمیانی فاصلے کے میزائل کا تجربہ کیا، جس نے ہائپرسونک صلاحیت کے عملی خطرے کو مزید نمایاں کر دیا۔

 

امریکہ نے "ڈارک ایگل" ہائپرسونک ہتھیار کی تیاری مکمل کر لی ہے، جبکہ برطانیہ نے اپریل 2025 میں ناسا لینگلے ریسرچ سینٹر میں 233 کامیاب پروپلشن ٹیسٹ رنز کے بعد اعلان کیا کہ وہ اس دوڑ میں شمولیت کے لیے ایک "سنگِ میل" عبور کر چکا ہے۔ تاہم مغربی ممالک اب بھی چین اور روس کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔

فرانس، جاپان، اسرائیل اور ایران بھی اپنے اپنے ورژنز تیار کر رہے ہیں۔ ایران نے 2024 میں اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ میں ہائپرسونک میزائل استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ شمالی کوریا 2021 سے اپنی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔

 

ہائپرسونک ہتھیاروں کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ روایتی ریڈار انہیں اس وقت تک نہیں پکڑ پاتے جب تک وہ اپنے ہدف کے قریب نہ پہنچ جائیں۔ امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق موجودہ سینسرز ناکافی ہیں اور خلائی نگرانی کو بڑھانا ناگزیر ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت سپرسونک یا سب سونک میزائلوں سے زیادہ مختلف نہیں، لیکن ان کا پتہ لگانا، ٹریک کرنا اور روکنا انتہائی مشکل ہے۔ بوسٹ گلائیڈ اور ہائپرسونک کروز میزائل اس ٹیکنالوجی کی دو بڑی اقسام ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C