04/October/2026

یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز، صنعاء اور صعدہ پر حملوں کا اعلان

👁️ 85 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز، صنعاء اور صعدہ پر حملوں کا اعلان

یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز، صنعاء اور صعدہ پر حملوں کا اعلان

صنعاء / ریاض (ڈیلی اردو) یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں تیزی آگئی ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے وابستہ مسلح افواج نے دارالحکومت صنعاء اور حوثیوں کے اہم مرکز صعدہ میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق فوج نے حوثیوں کے خلاف متعدد کارروائیاں شروع کی ہیں اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے حملوں کے مخصوص مقامات یا نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

یہ پیش رفت ایک روز قبل حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب سعودی آرامکو کی ایک تنصیب پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کے دعوے کے بعد سامنے آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ریاض میں آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب آگ اور دھویں کے شعلے دیکھے گئے، تاہم سعودی حکام اور آرامکو نے فوری طور پر حملے یا آگ کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔

حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے صنعاء پر سعودی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی حکومت کی جانب سے ان حملوں کی فوری طور پر باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب رائٹرز نے سفارتی، خلیجی اور یمنی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ مجوزہ کارروائی کے ایک آپشن میں باب المندب کے اطراف محدود زمینی پیش قدمی جبکہ دوسرے میں البیضا، مارب، تعز اور الجوف سمیت متعدد محاذوں پر بیک وقت حملے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کا حجم بڑھنے کی صورت میں ایک لاکھ سے زائد یمنی اہلکاروں کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق اس مجوزہ آپریشن میں زمینی کارروائی بنیادی طور پر سعودی عرب کی نگرانی میں موجود یمنی فورسز انجام دیں گی جبکہ سعودی فضائیہ معاونت کرے گی۔ امریکی حکام سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس اور ہدف بندی سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں، تاہم واشنگٹن نے براہِ راست فضائی حملوں میں شرکت سے گریز کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی منصوبے کا ایک اہم مقصد بحیرہ احمر کے جنوبی راستے اور باب المندب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے اور عالمی تجارت کے لیے اس کی تزویراتی اہمیت غیر معمولی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے موکا اور باب المندب کے قریب بعض اہم مقامات پر قبضہ کیا ہے، جس کے بعد یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور ہزاروں افراد کی نقل مکانی ہوئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فریقین سے سیاسی حل کی جانب واپس آنے پر زور دیا ہے۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا تعلق خطے میں جاری وسیع تر ایران اور امریکا کے تنازع سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن میں لڑائی بڑی حد تک محدود ہوگئی تھی، تاہم رواں سال حوثیوں کے سعودی اہداف اور بحری جہازوں کے خلاف حملوں کے بعد محاذ دوبارہ گرم ہوگیا ہے۔

اس صورتحال نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے ذریعے عالمی بحری تجارت کے لیے بھی نئے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔ سعودی عرب ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنے اتحادیوں سے دفاعی معاونت حاصل کر رہا ہے، جبکہ رائٹرز کے مطابق پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کو فوجی سازوسامان فراہم کیا ہے۔ تاہم پاکستان نے یمن کے اندر براہِ راست جنگی کارروائی میں اپنی فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C