14/October/2026

آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے دو مال بردار جہازوں پر حملے، ایک ڈوب گیا، 43 ملاح محفوظ

👁️ 86 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے دو مال بردار جہازوں پر حملے، ایک ڈوب گیا، 43 ملاح محفوظ

آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے دو مال بردار جہازوں پر حملے، ایک ڈوب گیا، 43 ملاح محفوظ

تہران (ڈیلی اردو) آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سنگاپور میں رجسٹرڈ دو کنٹینر بردار جہاز نامعلوم سمت سے آنے والے گولوں یا دیگر حملہ آور اشیا کا نشانہ بن گئے۔ ایک جہاز میں آگ لگنے کے بعد وہ سمندر میں ڈوب گیا، جبکہ دوسرے کو نقصان پہنچا، تاہم دونوں جہازوں کے تمام 43 ملاح محفوظ رہے۔

سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق، جی ایف ایس پرائیڈ کو 13 اکتوبر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جہاز کو نقصان پہنچنے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ ڈوب گیا۔ اس پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

اتھارٹی کے مطابق، دوسرا جہاز جی ایف ایس جیزیل 14 اکتوبر کو حملے کا نشانہ بنا۔ اس کے بیرونی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنے انجن کی مدد سے محفوظ لنگرگاہ تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ جہاز پر موجود عملے کے تمام 22 ارکان بھی محفوظ رہے۔ دونوں جہازوں پر سنگاپور کا کوئی شہری سوار نہیں تھا۔

سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے تجارتی جہازوں پر حملوں کو بلااشتعال اور ناقابلِ جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور سمندر میں ملاحوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ ادارہ جہازوں کی انتظامی کمپنی سے رابطے میں ہے اور صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک کنٹینر بردار جہاز بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ لگنے کے باعث ڈوب گیا۔ ایرانی بیان میں جہاز کا نام نہیں بتایا گیا تھا۔ تاہم سنگاپور کی اتھارٹی نے ڈوبنے والے جہاز کی شناخت جی ایف ایس پرائیڈ کے طور پر کی ہے اور واقعے میں حملہ آور اشیا کا ذکر کیا ہے۔ دونوں بیانات میں واقعے کی وجہ سے متعلق تفصیلات مختلف ہیں، جبکہ حملے کے ذمہ داروں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور سنگاپور کے نشریاتی ادارے چینل نیوز ایشیا کے مطابق، یہ واقعات آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے دوران پیش آئے ہیں۔ یہ سمندری راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت گزرتی ہے۔ مسلسل حملوں اور سکیورٹی خدشات سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی رسد متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C