05/October/2026

امریکا ایران کشیدگی، گوتریش پاکستان پہنچ رہے ہیں ، اسلام آباد کی سفارتی کوششیں زیرِ بحث

👁️ 111 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکا ایران کشیدگی، گوتریش پاکستان پہنچ رہے ہیں ، اسلام آباد کی سفارتی کوششیں زیرِ بحث

امریکا ایران کشیدگی، گوتریش پاکستان پہنچ رہے ہیں ، اسلام آباد کی سفارتی کوششیں زیرِ بحث

اسلام آباد(ڈیلی اردو) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے سفارتی حل کے لیے پاکستان کی کوششوں پر بات چیت کے لیے 6 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔ ان کا تین روزہ سرکاری دورہ 6 سے 8 اکتوبر تک جاری رہے گا، جس کے دوران وہ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کے مطابق گوتریش 4 اکتوبر کی رات نیویارک سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے اور ان کی اسلام آباد آمد 6 اکتوبر کی صبح متوقع ہے۔ 


پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق گوتریش یہ دورہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ دورے کے دوران ان کی صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اہم پاکستانی حکام سے ملاقاتیں ہوں گی۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ گوتریش کے دورے میں پاکستان کے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی و ثالثی کردار پر بھی بات ہوگی۔ بالخصوص دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی حمایت میں اسلام آباد کے ’’تعمیری کردار‘‘ اور تنازع کے پرامن حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان گزشتہ عرصے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی رابطوں میں سرگرم رہا ہے۔ اقوام متحدہ بھی پاکستان کے اس کردار کو سراہتا رہا ہے۔ اپریل میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد اقوام متحدہ نے پاکستان سمیت ثالث ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے فریقین پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے گزشتہ مہینوں کے دوران بھی امریکا ایران تنازع کے فوجی حل کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مزید مذاکرات کے لیے فریم ورک سامنے آنے کے بعد گوتریش نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت ان ممالک کے کردار کو سراہا تھا جنہوں نے مذاکرات کی حمایت کی۔

حالیہ صورتحال میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان کئی بنیادی معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو معمول کی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے کو جون میں طے پانے والے عبوری سمجھوتے کی سات شرائط پر عمل درآمد سے مشروط کر رکھا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو پہلے ان شرائط پر عملی پیش رفت کرنا ہوگی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔

پاکستانی حکام کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب خطے میں جنگی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور توانائی کی عالمی ترسیل کو لاحق خطرات نے بین الاقوامی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام آباد خود کو دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے رکھنے والے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

گوتریش کے دورے کا ایجنڈا صرف امریکا ایران تنازع تک محدود نہیں ہوگا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اپنے قیام کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت، عالمی امن و سلامتی، کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور پاکستان کے ساتھ اقوام متحدہ کے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) کے ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کریں گے۔ انہیں لائن آف کنٹرول کی نگرانی سے متعلق اقوام متحدہ کے مشن کے کردار پر بریفنگ دی جائے گی۔

گوتریش نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بھی دورہ کریں گے، جہاں انہیں پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری، آفات کے خطرات میں کمی اور ابتدائی انتباہ کے نظام میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ یہ دورہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کی جانب سے آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی کوششوں کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

گوتریش کا پاکستان کا موجودہ دورہ ان کے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے موجودہ مدت کے آخری مہینوں میں ہو رہا ہے۔ وہ رواں سال کے اختتام پر عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔ ان کا پاکستان کا آخری دورہ 2022 میں تب ہوا تھا، جب انہوں نے تباہ کن مون سون سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ 8 اکتوبر کو دورہ مکمل کرنے کے بعد نیویارک واپس روانہ ہوں گے۔ موجودہ حالات میں ان کے دورہ پاکستان کو خاص طور پر اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C