05/October/2026

یمن میں حکومتی فورسز کی بڑی پیش قدمی، المخا پر قبضے کا دعویٰ

👁️ 62 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن میں حکومتی فورسز کی بڑی پیش قدمی، المخا پر قبضے کا دعویٰ

یمن میں حکومتی فورسز کی بڑی پیش قدمی، المخا پر قبضے کا دعویٰ

صنعا(ڈیلی اردو) یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز نے حوثی باغیوں کے خلاف جاری بڑے فوجی آپریشن کے دوران بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی حکام کے مطابق حکومتی فورسز نے پیر کے روز شدید لڑائی کے بعد مغربی تعز میں واقع اہم ساحلی شہر المخا میں داخل ہوکر مختلف علاقوں اور تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے سبا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کارروائی کو فضائی مدد بھی حاصل تھی۔

یمنی فوجی ذرائع کے مطابق المخا کے اطراف میں کئی مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ لڑائی کے دوران حوثی باغیوں کے متعدد ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ کچھ کو گرفتار کرلیا گیا اور دیگر علاقے سے فرار ہوگئے۔

حکومتی فورسز نے شہر اور اس کے اطراف میں سرچ آپریشن شروع کرتے ہوئے مبینہ حوثی جنگجوؤں کی موجودگی کے شبہ میں مختلف علاقوں، عمارتوں اور اہم تنصیبات کی تلاشی بھی شروع کردی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقصد شہر میں موجود کسی بھی مزاحمتی گروہ یا مسلح عناصر کا خاتمہ اور مکمل سکیورٹی یقینی بنانا ہے۔

المخا پر کنٹرول کا دعویٰ یمن میں حالیہ فوجی پیش رفت کا اہم حصہ ہے۔ الجزیرہ کے مطابق حکومتی فورسز نے اسی فوجی مہم کے دوران باب المندب کے قریب اہم پوزیشنوں اور ذباب کے علاقے میں بھی پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتی فوج کا کہنا ہے کہ ذباب کے ہوائی اڈے پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا گیا اور ذباب سے المخا جانے والی سڑک کا رابطہ کاٹ دیا گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے باب المندب کے قریب اہم علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے حاصل کی گئی پوزیشنیں واپس لینے کی کوشش تیز کردی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کارروائی بحیرہ احمر کے اس اہم آبی راستے پر دوبارہ اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

اس سے قبل یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ’’فجر الیمن‘‘ کے نام سے بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد حوثی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا، ریاستی اداروں کو بحال کرنا اور صنعا پر دوبارہ حکومتی کنٹرول قائم کرنا بتایا گیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی نے بھی صنعا کی جانب ’’اسٹریٹجک حملے‘‘ کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ کارروائی بیک وقت کئی محاذوں پر جاری ہے اور اس میں سعودی فضائی مدد بھی شامل ہے۔

سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے بھی کارروائی میں بڑے پیمانے پر فضائی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق آپریشن کے آغاز کے بعد 100 جنگی طیاروں نے کارروائیوں میں حصہ لیا جبکہ 324 اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ باب المندب کے فضائی تحفظ اور متحرک اہداف کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے۔

الجزیرہ کے مطابق حوثی باغیوں نے حکومتی فورسز کی بعض پیش قدمیوں کو تسلیم نہیں کیا اور مختلف علاقوں میں لڑائی جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق حالیہ فوجی کارروائی یمن میں کئی سال کی نسبتاً کم شدت والی صورتحال کے بعد ایک بڑی عسکری کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ تعز اور دیگر محاذوں پر بھی لڑائی جاری ہے۔

المخا، باب المندب اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ عالمی بحری تجارت کے اہم راستوں سے منسلک ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ان علاقوں پر کنٹرول کے لیے حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی نے خطے میں پہلے سے موجود سکیورٹی اور بحری نقل و حرکت کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C