05/October/2026

خیبرپختونخوا میں دو سال کے دوران 6200 دہشتگردی کے واقعات، 1200 ہلاکتیں ہوئیں: خواجہ آصف

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبرپختونخوا میں دو سال کے دوران 6200 دہشتگردی کے واقعات، 1200 ہلاکتیں ہوئیں: خواجہ آصف

خیبرپختونخوا میں دو سال کے دوران 6200 دہشتگردی کے واقعات، 1200 ہلاکتیں ہوئیں: خواجہ آصف

اسلام آباد(ڈیلی اردو)وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران صوبے میں تقریباً 6200 دہشتگردی کے واقعات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 1200 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ رواں سال اب تک 14 خودکش حملے ہوچکے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران ہونے والے 37 خودکش حملوں میں افغان شہریوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے، جبکہ رواں سال ہونے والے خودکش حملوں میں بھی بڑی تعداد میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

وزیر دفاع نے خیبرپختونخوا پولیس کی مجموعی نفری تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس کے لگ بھگ 13 ہزار اہلکار وی آئی پی سکیورٹی اور پروٹوکول ڈیوٹیوں پر تعینات ہیں، جبکہ فورس میں تقریباً 17 ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کی ایک بڑی تعداد دہشتگردی کے خلاف براہ راست کارروائی کے بجائے دیگر ذمہ داریوں پر مامور ہے۔

خواجہ آصف نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں سی ٹی ڈی کا نظام مؤثر انداز میں فعال نہیں۔ ان کے مطابق پورے خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں موجود ہیں جبکہ محکمے کی مجموعی نفری تقریباً 3300 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔

وزیر دفاع نے پولیس چوکیوں کی تعمیر نو اور سکیورٹی کے انتظامات سے متعلق مالی معاملات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے چوکیوں کی تعمیر اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے 42 ارب روپے کے فنڈز طلب کیے تھے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے صرف ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جبکہ دستاویزات میں 42 ارب روپے خرچ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ مختص رقم کے استعمال میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور رقم مبینہ طور پر ہڑپ کرلی گئی۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کی حکمت عملی اور اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ وزیر دفاع نے پوچھا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ عرصے کے دوران دہشتگردی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کتنے اپیکس کمیٹی اجلاس منعقد کیے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اس کی اپنی واضح پالیسی کیا ہے۔

خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی دہشتگردی سے متعلق پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے ماضی میں نرم مؤقف رہا ہے اور پی ٹی آئی کی سیاسی سوچ دہشتگرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی کے زیادہ قریب رہی ہے۔ تاہم یہ سیاسی الزامات ہیں جنہیں متعلقہ فریق ماضی میں مسترد کرتا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے اس مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کو صرف بیرونی مالی امداد یا ڈالرز سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں امریکا نے پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ اور سکیورٹی ضروریات کے لیے کتنی مالی امداد فراہم کی۔

خواجہ آصف نے کوہاٹ اور پشاور میں ہونے والے مبینہ ڈرون حملوں اور پاکستانی سکیورٹی چوکیوں پر تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال اہم ہے کہ اگر سرحد پار سے حملے اور ڈرون کارروائیاں ہو رہی ہیں تو ان کی ذمہ داری اور روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی اداروں کو دہشتگرد حملوں کے ساتھ ساتھ خودکش حملہ آوروں، ڈرونز اور دیگر جدید طریقوں سے نمٹنے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت وفاقی حکومت اور وزیر دفاع کی جانب سے پولیس کی کارکردگی اور وسائل سے متعلق ایسے الزامات کو ماضی میں مسترد کرتی رہی ہے۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ پولیس کے بجٹ اور ترقیاتی وسائل میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 کے بعد پولیس میں 3050 نئی آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

وزیر دفاع کے حالیہ اعداد و شمار اور الزامات کے حوالے سے مزید سرکاری دستاویزات یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر صوبے میں دہشتگردی، پولیس کی نفری، سی ٹی ڈی کی استعداد اور سکیورٹی فنڈز کی صورتحال کی زیادہ واضح تصویر سامنے آسکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C