18/October/2026

ایتھوپیا کے علاقے تیگرائے میں کشیدگی بڑھ گئی، ڈرون حملوں کے بعد اریٹیریا کی فوج اور مقامی جنگجو پیچھے ہٹنے پر مجبور

👁️ 41 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایتھوپیا کے علاقے تیگرائے میں کشیدگی بڑھ گئی، ڈرون حملوں کے بعد اریٹیریا کی فوج اور مقامی جنگجو پیچھے ہٹنے پر مجبور

ایتھوپیا کے علاقے تیگرائے میں کشیدگی بڑھ گئی، ڈرون حملوں کے بعد اریٹیریا کی فوج اور مقامی جنگجو پیچھے ہٹنے پر مجبور

تیگرائے (ڈیلی اردو) ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائے میں حکومتی فورسز کے ڈرون حملوں کے بعد لڑائی میں شدت آگئی ہے، جبکہ اریٹیریا کی فوج اور تیگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں کی پیش قدمی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ علاقے میں سکیورٹی صورت حال خراب ہونے کے ساتھ شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

اسکائی نیوز عربیہ کے مطابق تیگرائے کے شمالی شہر اڈیغرات میں ڈرون حملوں کے بعد سڑکوں کے کنارے جلی ہوئی گاڑیاں دیکھی گئی ہیں۔ ایتھوپیا کی حکومتی فورسز نے شہر میں موجود اریٹیریا کے فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ اڈیغرات اریٹیریا کی سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

رپورٹ میں ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے آغاز میں اریٹیریا کے ہزاروں فوجی سرحد عبور کرکے تیگرائے میں داخل ہوئے تھے، جہاں انہوں نے تیگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں کی مدد کی۔ ان جنگجوؤں نے ستمبر کے آخر میں وفاقی فورسز کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ تاہم، ایتھوپیا کے ڈرون حملوں کے بعد اریٹیریا کی فوج اور مقامی جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بعض جنگجو اریٹیریا واپس چلے گئے، جبکہ کچھ اب بھی ایتھوپیا کے سرحدی علاقوں میں موجود ہیں۔

ایتھوپیا اور اریٹیریا کے تعلقات میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں تناؤ پیدا ہوا ہے۔ ادیس ابابا نے اسمرا پر تیگرائے کے جنگجوؤں کی حمایت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دونوں ممالک ماضی میں بھی ایک خونریز سرحدی جنگ لڑ چکے ہیں، جو 1998 سے 2000 تک جاری رہی تھی۔

شہر اڈیغرات میں بھاری ہتھیاروں سے لیس حکومتی فوجی گشت کر رہے ہیں، جبکہ سکیورٹی خدشات کے باعث اسکول کئی روز سے بند ہیں۔ اگرچہ بعض دکانیں اور ریستوران کھل گئے ہیں، تاہم اشیائے ضروریہ کی قلت کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحد کے قریب واقع زلامبیسا میں بھی اریٹیریا کے فوجیوں کی موجودگی برقرار رہنے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب، ایتھوپیا کی حکومت نے تیگرائے کے لیے چھ ماہ کی مدت پر مشتمل عبوری انتظامیہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق اس اقدام کا مقصد علاقے میں انتظامی امور چلانے اور انتخابات کی تیاری کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم، تازہ لڑائی کے اثرات اور متحارب فریقوں کی آئندہ حکمت عملی کے بارے میں صورت حال غیر یقینی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C