25/June/2026

ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے پر فریقین کے متضاد بیانات

👁️ 56 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے پر فریقین کے متضاد بیانات

ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے پر فریقین کے متضاد بیانات

نیو یارک (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے بدھ کے روز اشارہ دیا کہ ان کے معائنہ کار ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات کا دورہ کریں گے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری معاہدے کا ایک اہم جزو ہے۔ تاہم ایک ایرانی سفارت کار نے کہا ہے کہ ایسے کسی بھی معائنے کی اجازت صرف حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد ہی دی جائے گی۔

 

یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ہفتہ قبل جنگ کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے لیے عبوری معاہدہ طے پایا تھا، لیکن دونوں ممالک کے رہنما اس معاہدے کی تشریح کے حوالے سے مسلسل متضاد بیانات دے رہے ہیں۔

گروسی نے بدھ کے روز اعتراف کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں’لفظی جنگ‘جاری ہے، تاہم اختلافات صرف جوہری معائنوں تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ متضاد بیانات دیگر معاملات پر بھی سامنے آ رہے ہیں۔

 

گروسی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور کے دستخط موجود ہیں اور اس میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں اور جوہری مواد سے متعلق تنصیبات آئی اے ای اے کی نگرانی میں ہوں گی۔

 

انہوں نے کہا، ’’اس کام کے لیے ہمیں معائنہ کرنا ہو گا۔ یہ دو دن بعد ہو، ایک ہفتے بعد یا دس دن بعد، یہ اہم تو ہے مگر بنیادی مسئلہ نہیں۔ معائنہ بہرحال ہو گا۔‘‘

منگل کے روز بھی واشنگٹن اور تہران نے اس بات پر متضاد موقف اختیار کیا تھا کہ آیا ایرانی جوہری تنصیبات کا بین الاقوامی معائنہ عبوری معاہدے کے تحت فوری طور پر ہو گا یا نہیں۔

 

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بدھ کے روز ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں رافائل گروسی کی درخواست کے باوجود ان کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

 

غریب آبادی نے کہا کہ حملوں کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات یا جوہری مواد تک رسائی دینے کا بھی کوئی پروگرام موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام معاملات صرف ’حتمی معاہدے کے فریم ورک میں اور مخالف فریق کی جانب سے تمام پابندیوں کے خاتمے سمیت عملی‘ اقدامات کے بعد ہی زیر غور آئیں گے اور ان پر فیصلہ کیا جائے گا۔

 

کاظم غریب آبادی نے مزید کہا،’’آپ میڈیا میں شور شرابا کر کے اپنی پالیسی کو حقیقت کا روپ نہیں دے سکتے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ ’’پہلے ماحول بناؤ اور پھر اسے منوا لو‘‘ کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو گی۔

 

اس صورتحال نے عبوری امن معاہدے کی عملی تشریح اور آئندہ مذاکرات کی سمت کے بارے میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں، حالانکہ دونوں فریق باضابطہ طور پر مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C