02/October/2026

ایران میں مذاکرات کے لیے کس سے رابطہ کیا جائے؟ ٹرمپ نے قیادت پر سوال اٹھا دیا

👁️ 49 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں مذاکرات کے لیے کس سے رابطہ کیا جائے؟ ٹرمپ نے قیادت پر سوال اٹھا دیا

ایران میں مذاکرات کے لیے کس سے رابطہ کیا جائے؟ ٹرمپ نے قیادت پر سوال اٹھا دیا

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو یہ واضح نہیں کہ ایران میں مذاکرات اور معاملات طے کرنے کے لیے کس سے رابطہ کیا جائے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بیان ٹیکساس کے شہر ڈینٹن میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران دیا۔ ان کے مطابق ایران کی سابقہ قیادت کے کئی اہم ارکان اب موجود نہیں رہے، جس کے باعث امریکا کے لیے یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ مستقبل میں مذاکرات کس فریق کے ساتھ کیے جائیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن اس وقت ایران کے موجودہ رہنما کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی کسی ایسے فریق کی تلاش جاری ہے جس کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی جاسکے۔ ٹرمپ نے تاہم ایرانی رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ امریکا کو بالآخر کسی نہ کسی فریق کے ساتھ معاملات طے کرنا ہوں گے۔

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے اختتام کے حوالے سے بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو اس تنازع میں کامیابی حاصل ہوگی اور یہ پیش رفت نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد یا ممکنہ طور پر اس سے پہلے بھی ہوسکتی ہے۔

امریکی صدر نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں بھی سخت دعوے کیے۔ ان کے مطابق ایرانی بحری بیڑے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ایران کے پاس موجود میزائلوں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے میں کم رہ گئی ہے اور میزائل تیار کرنے کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہ دعوے ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے ہیں اور ان کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مہینوں میں جنگ اور سفارتی رابطوں دونوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات ہوئے تھے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ اسی دوران ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔

اس سے قبل رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ جولائی میں امریکا کی جانب سے حملے روکنے کے بعد ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو ’’اچھا‘‘ قرار دیا تھا، تاہم تہران کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آیا تھا۔ ایران نے اس وقت امریکی دعوؤں کے برعکس کہا تھا کہ باقاعدہ مذاکرات نہیں ہورہے۔

تازہ امریکی میڈیا رپورٹنگ کے مطابق ٹرمپ نے یکم اکتوبر کو بھی کہا کہ واشنگٹن ایران کے موجودہ رہنما کے ساتھ رابطے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکا مستقبل میں دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز بھی مذاکرات کا ایک اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم کئی بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

یوں ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی حل کی تلاش میں ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی قیادت فوجی دباؤ برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات، جنگ بندی اور مستقبل کے سیاسی انتظام سے متعلق مؤقف اس عمل کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C