ایران کے لیے کندھے سے فائر ہونے والے فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا مبینہ عالمی نیٹ ورک بے نقاب
👁️ 67 بار دیکھا گیا
ایران کے لیے کندھے سے فائر ہونے والے فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا مبینہ عالمی نیٹ ورک بے نقاب
واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکہ نے ایران کے لیے کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے فضائی دفاعی میزائل نظام حاصل کرنے کی مبینہ کوششوں میں ملوث دو افراد اور ایک کمپنی پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ نیٹ ورک بیلاروس، روس اور نائیجیریا میں سرگرم تھا اور چین سے تیار کردہ میزائل نظام ایران کے لیے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے 4 نومبر کو اعلان کیا کہ نئی پابندیوں کا ہدف بیلاروس میں قائم اسلحہ کی درمیانی کمپنی آرمری الائنس کے سربراہ محمد علی تولیبوف، نائیجیریا میں قائم کمپنی وینگارڈ ٹیکٹیکل سپلائی لمیٹڈ اور روس میں مقیم علیشر دومولودژانوف ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق محمد علی تولیبوف نے آرمری الائنس کے ذریعے ایران کے لیے اسلحہ حاصل کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کیا۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ اس کمپنی نے چین میں قائم کمپنیوں اور ایران کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کرتے ہوئے سینکڑوں کندھے سے فائر ہونے والے فضائی دفاعی میزائل نظام خریدنے کی کوششوں میں سہولت فراہم کی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے نائیجیریا کی کمپنی وینگارڈ ٹیکٹیکل سپلائی لمیٹڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے خریداروں اور ہتھیاروں کے اصل استعمال کنندگان سے متعلق غلط معلومات فراہم کرکے چین میں تیار کردہ میزائل نظام ایران کے لیے حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ روس میں مقیم علیشر دومولودژانوف پر بھی ایران کے لیے ان میزائلوں کی خریداری میں سہولت کاری کا الزام لگایا گیا ہے۔
ایران کو کس نوعیت کے ہتھیار حاصل کرنے کا الزام ہے؟
امریکی پابندیوں کا مرکز ایسے مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی میزائل نظام ہیں جنہیں انگریزی میں مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹمز (MANPADS) کہا جاتا ہے۔ یہ میزائل عموماً ایک فوجی یا مختصر ٹیم کے ذریعے کندھے پر رکھ کر فائر کیے جا سکتے ہیں اور بنیادی طور پر کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ان نظاموں کی اہم خصوصیت ان کا نسبتاً چھوٹا حجم، نقل و حمل میں آسانی اور زمینی دستوں کے لیے فوری فضائی دفاع فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔ ان میں سے کئی نظام حرارت کو شناخت کرنے والے رہنمائی نظام کے ذریعے طیارے کے انجن کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اسلحہ کنٹرول کے ماہرین کے مطابق ایسے میزائل میدانِ جنگ میں زمینی فوج کو فضائی حملوں سے بچانے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کی غیر قانونی منتقلی شہری ہوابازی اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکی پابندیوں کا مقصد کیا ہے؟
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے فوجی خریداری کے نیٹ ورکس کو محدود کرنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کا حصہ ہے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ 2026 کے دوران ایران کے لیے فضائی دفاعی میزائلوں کی خریداری سے متعلق نیٹ ورکس کے خلاف چوتھی بڑی کارروائی ہے۔ اس سے پہلے 8 مئی، 10 جون اور 15 جولائی کو بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
نئی پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور کمپنی کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ امریکی شہریوں اور اداروں کو ان کے ساتھ مخصوص مالی اور کاروباری لین دین سے روک دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد تیسرے ممالک میں موجود ان درمیانی کمپنیوں اور افراد کے لیے ایران کو فوجی سازوسامان فراہم کرنا مشکل بنانا ہے جو مبینہ طور پر بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے فوجی اور دفاعی پروگراموں کے لیے اسلحہ حاصل کرنے میں مدد دینے والے افراد اور اداروں کے خلاف مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا معاملہ
امریکی اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور اسلحہ کی خریداری پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی قانونی حیثیت پر بھی عالمی سطح پر اختلافات جاری ہیں۔
فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اگست 2025 میں جوہری معاہدے میں شامل اسنیپ بیک طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ایران پر اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد 27 ستمبر 2025 کو پابندیاں بحال ہونے کا اعلان کیا گیا۔
ان پابندیوں میں اسلحے کی منتقلی پر پابندیاں، بعض مالی اثاثوں کی منجمدی اور میزائل پروگرام سے متعلق قدغنیں شامل ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ پابندیاں قانونی طریقہ کار کے تحت بحال ہوئی ہیں، جبکہ ایران، روس اور چین اس اقدام کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔
اس اختلاف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی کشیدگی پیدا کی ہے۔ اکتوبر 2026 میں روس اور چین نے امریکی حمایت یافتہ اس قرارداد کو ویٹو کردیا تھا جس کا مقصد ایران پر دوبارہ عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع کرنا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پابندیوں کی نگرانی کے نظام پر اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
کیا ایران کو یہ میزائل مل چکے ہیں؟
امریکی اعلان میں ایران کے لیے میزائل نظام حاصل کرنے کی کوششوں اور خریداری میں مبینہ سہولت کاری کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس بات کا کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ زیرِ تفتیش نیٹ ورک کے ذریعے یہ میزائل ایران پہنچ بھی چکے ہیں۔
اسی طرح ایران کی جانب سے بھی ان تازہ امریکی الزامات اور پابندیوں پر کوئی تفصیلی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس لیے فی الحال یہ معاملہ مبینہ بین الاقوامی خریداری نیٹ ورک اور امریکی پابندیوں تک محدود ہے،
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکی حمایت کے بغیر ایران پر حملے کا امکان، اسرائیل نے یکطرفہ کارروائی کا آپشن کھلا رکھا
05/November/2026 👁️ 43 بار دیکھا گیا
ایران کے لیے کندھے سے فائر ہونے والے فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا مبینہ عالمی نیٹ ورک بے نقاب
05/November/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
ایران نواز حوثی باغیوں کا ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ
05/November/2026 👁️ 82 بار دیکھا گیا
ایران پر نئے حملے کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے، اسماعیل بقائی کی امریکہ اور اسرائیل کو تنبیہ
05/November/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
بلوچستان : ضلع ہرنائی میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ و سازوسامان برآمد
04/November/2026 👁️ 130 بار دیکھا گیا
مردان میں پولیس انسپکٹر پراسرار طور پر لاپتہ، گاڑی رنگ روڈ سے مل گئی، مبینہ اغوا کا خدشہ
04/November/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26433 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15668 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11973 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9335 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7585 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5578 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C